موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سیف علی خان پر حملے کے پس منظر میں گرفتار شخص کے والد کا شدید ردعمل: "پولیس نے بیٹے کی زندگی تباہ کر دی”

 ممبئی پولیس کی کارروائیوں پر سوالات اٹھنے لگے

ممبئی میں 16 جنوری کو نامور اداکار سیف علی خان کے فلیٹ پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے شخص آکاش کنوجیا کے والد نے پولیس کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بے بنیاد کارروائی نے ان کے بیٹے کی زندگی برباد کر دی ہے۔ آکاش کنوجیا، جو چھتیس گڑھ کے ضلع درگ سے تعلق رکھتے ہیں، کو 18 جنوری کو شالیمار ایکسپریس سے حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ حملہ اُس وقت ہوا جب سیف علی خان اپنے فلیٹ میں موجود تھے، اور ان کی حفاظت کے لیے پولیس کی موجودگی ضروری تھی۔

آکاش کو 19 جنوری کو ممبئی پولیس کے ذریعے ایک بنگلہ دیشی شہری شریف الاسلام کی گرفتاری کے بعد رہا کیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف آکاش کی زندگی پر اثر انداز ہوا بلکہ اس کے خاندان پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق آکاش رہائش پذیر تھا ٹٹوالا علاقے کی اندرانگر چال میں، جہاں اس کی زندگی کا دائرہ ایک عام نوجوان کے طور پر چل رہا تھا۔

 آکاش کنوجیا کے والد کا موقف

کیا ہونے والا ہے جب پولیس کی غلطی کسی کی زندگی کو متاثر کرے؟ آکاش کے والد، کیلاش کنوجیا، نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "پولیس نے میرے بیٹے کی شناخت کی تصدیق کیے بغیر اسے حراست میں لے لیا۔ یہ غلطی اُس کی زندگی کو برباد کر چکی ہے۔ آکاش اب ذہنی دباؤ کے باعث نہ تو کام پر توجہ دے پا رہا ہے اور نہ ہی گھر والوں سے زیادہ بات چیت کرتا ہے۔”

کیلاش کی باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے بیٹے کی زندگی میں اس واقعے کے بعد بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "اس کی ملازمت چلی گئی اور شادی بھی ختم ہو گئی۔ کون ذمہ دار ہے؟” یہ سوال نہ صرف ان کے اپنے خاندان کے لیے اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ پورے معاشرتی نظام کے لیے بھی ایک تشویش کا باعث ہے۔

# پولیس کی کارروائیوں پر سوالات

آکاش کنوجیا کی گرفتاری اور رہائی کے بعد یہ واقعہ معاشرتی انصاف کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ انسانی حقوق کی مذاہب میں یہ ایک اہم معاملہ بن گیا ہے، جہاں پولیس کی کارروائیوں کی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے جانے لگے ہیں۔ کیا واقعی پولیس نے افسران کی شناخت کی تصدیق کیے بغیر ایک بے گناہ کو حراست میں لیا یا یہ محض ایک اتفاق تھا؟

As per the report by India Today, اس واقعے نے شہریوں میں پولیس کی کارروائیوں کے بارے میں عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے۔

یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی شخص بے گناہ ہے تو کس طرح اس کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ ذاتی زندگی کے دیگر مسائل، جیسے ملازمت کا نقصان، ذہنی دباؤ، اور خاندانی تعلقات میں تناؤ، سبھی کی لاسٹز نے آکاش کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔

 درمیان کی حقیقت

پولیس کی تحقیقات اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے کیسز میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید مسائل سے بچا جا سکے۔ کیلاش کنوجیا نے کہا، "ہمیں انصاف کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیا پولیس کو اپنی کارروائیوں میں احتیاط برتنا چاہیے، اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک انجام دے رہے ہیں۔”

آکاش اور ان کے خاندان کی زندگی میں آنے والی تبدیلیاں واضح طور پر اس مسئلے کی نوعیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے سماجی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔

آگے کا راستہ

آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی اداروں میں اصلاحات کی جائیں تاکہ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے بہترین خدمات فراہم کر سکیں۔ پولیس کو اپنے آپ کو جوابدہ بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور وہ شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے اپنے طریقہ کار کو بہتر بنائیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں کس طرح اپنے معاشرتی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس طرح کے معاملات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ Hindustan Times کے مطابق، اگر پولیس کی اصلاحات کی جائیں تو یہ عوامی اعتماد کو بحال کر سکتی ہیں۔