موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسانوں کی مہاپنچایت: حکومت سے میٹنگ سے پہلے طاقت کا مظاہرہ

کسانوں کی طاقت کا مظاہرہ؛ مہاپنچایت کا اہتمام 12 اور 13 فروری کو

پاکستان کے زراعت پر زور دینے والے کسانوں کی تنظیمیں ایک بار پھر سے میدان میں آ رہی ہیں۔ کھنوری اور شمبھو بارڈر پر ہونے والی مہاپنچایت 12 اور 13 فروری کو منعقد ہونے جا رہی ہے۔ کسان مورچہ (کے ایم ایم) اور سنیوکت کسان یونین (ایس کے ایم-غیر سیاسی) نے اس مہاپنچایت کا اعلان کیا ہے جو کہ کسان تحریک کے 2.0 کے ایک سال پورا ہونے کے موقع پر ہو رہی ہے۔ یہ تحریک گزشتہ سال 13 فروری سے شروع ہوئی تھی، اور اس موقع پر ہزاروں کسان ان دونوں مقامات پر اکٹھے ہونے کی توقع ہے۔

یہ مہاپنچایت اس لئے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ حکومت کے ساتھ ہونے والی ایک اہم میٹنگ سے پہلے ہو رہی ہے۔ کسانوں کے مختلف مطالبات میں شامل ہیں: فصلوں کے لیے قانونی ایم ایس پی (کم از کم سپورٹ پرائس) کی گارنٹی، کسانوں کے قرضوں کی معافی، بجلی کی نجکاری کی روک تھام، اور ایگریکلچر مارکیٹنگ پر نیشنل پالیسی فریم ورک کو واپس لینا۔ ان مطالبات کے ساتھ ساتھ، کسانوں کی تنظیمیں پنجاب اور ہریانہ کے مختلف گاؤں میں بیداری مہم چلا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس مہاپنچایت میں شامل ہو سکیں۔

کسان تحریک کا پس منظر اور مہاپنچایت کی اہمیت

پچھلے ایک سال میں، کسانوں نے دہلی کی سرحدوں پر اپنا احتجاج جاری رکھا ہے، جہاں وہ اپنی فصلوں کی قیمتوں کے تحفظ کے لئے قانونی ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کچھ کسانوں نے اس احتجاج کے دوران اپنی زندگی گزارنے کے لئے اپنی خیمے لگا رکھے ہیں۔ حال ہی میں، سیکوریٹی فورسز نے انہیں دہلی کی طرف مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث کسانوں نے وہیں پر اپنے کھونٹے گاڑ دیے ہیں۔

کسان رہنما کاکا سنگھ کوٹڑا نے کہا ہے کہ یہ مہاپنچایت کسانوں کی طاقت کا مظاہرہ ہے، اور اس کا مقصد حکومت کو ان کے مطالبات کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ مہاپنچایت دراصل ایک پیغام بھی ہے کہ کسانوں کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ آ سکتی ہے اور اپنے حقوق کے لئے لڑ سکتی ہے۔

حکومت کے ساتھ میٹنگ اور دیگر تفصیلات

فروری میں چنڈی گڑھ میں مرکزی حکومت کے ساتھ کسانوں کی اہم میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ اس میٹنگ میں شریک ہونے کے لیے حکومت نے کسانوں کی تنظیموں کو دعوت دی ہے، اور یہ مہاپنچایت اس سے پہلے کا ایک اہم موقع ہے۔ حکومت کے جوائنٹ سکریٹری پریہ رنجن کی قیادت میں، ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایس کے ایم اور کے ایم ایم کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے 14 فروری کو چنڈی گڑھ میں میٹنگ طے کی ہے۔

ایس کے ایم کے سینئر رہنما جگجیت سنگھ ڈلے وال نے حال ہی میں طبی امداد لی، مگر انہوں نے کسانوں کے مطالبات پر اپنی احتجاجی ہڑتال ختم نہیں کی۔ ایس کے ایم کی 6 رکنی کمیٹی ان دو تنظیموں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے 12 فروری کو ایک کوآرڈینیشن میٹنگ بھی منعقد ہو گی۔

کسانوں کی طرف سے ایک بڑی تعداد میں ٹریکٹر پریڈ کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں دستخطی مہمات چلائی۔ کچھ کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں پر سیاہ پرچم لگا کر ان کے مطالبات کی نشاندہی کی۔

عوامی بیداری اور کسانوں کی جدوجہد

کسانوں کی اس مہاپنچایت کے موقع پر حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے دیہات میں بیداری مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس تحریک کا حصہ بن سکیں۔ کسانوں کی تنظیموں نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔

کسانوں کے حقوق کی تحریک کے ساتھ ساتھ، عوامی حمایت بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تحریک کے پیچھے ایک بڑی عوامی تحریک کا اثر بھی نظر آ رہا ہے، جس میں کسان خود کو تنہا محسوس نہیں کر رہے۔

مستقبل میں ممکنہ اقدامات

ان مہاپنچایتوں کے ذریعے کسانوں کی امید ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور ان کے وعدے پورے کرے گی۔ جبکہ کسانوں کے لئے یہ مہاپنچایت صرف ایک موقع نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے عزم اور قوت کا مظہر ہے، جو ان کے حقوق کے لئے لڑنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

ادھر، حکومت کی طرف سے کسانوں کے مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان مہاپنچایتوں میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ان دونوں مہاپنچایتوں کے نتائج کا اثر مستقبل میں کسانوں کی تحریک کی رفتار پر پڑ سکتا ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات اٹھاتی ہے یا نہیں۔