جین مذہب کی تقریب میں پیش آنے والا دلخراش حادثہ
بھارت کے اتر پردیش کے باغپت میں منگل کی صبح ایک جین مذہبی تقریب کے دوران ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا، جس میں مچان گرنے کے نتیجے میں 7 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ دلخراش واقعہ آدیناتھ بھگوان کے نروان لڈو پروگرام کے دوران پیش آیا، جو کہ جین مذہب کا ایک اہم مذہبی موقع ہے۔ حادثہ اس وقت ہوا جب لوگ لکڑی اور بانس سے بنے مچان پر موجود تھے، جو اچانک زمین پر آ گرا۔
حادثہ کہاں، کب اور کیوں پیش آیا؟
یہ واقعہ باغپت کے بڑوت شہر میں گاندھی روڈ پر واقع ایک کمپلیکس میں پیش آیا۔ یہ تقریب منگل کی صبح 10 بجے شروع ہوئی تھی جب مچان گرنے کی وجہ سے وہاں موجود لوگ دب گئے۔ متاثرین میں 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں: ترش پال جین (74 سال)، امت (40 سال)، اوشا (65 سال)، ارون جین ماسٹر (48 سال)، شلپی جین (25 سال)، وپن (44 سال) اور کملیش (65 سال)۔
کیسے ہوا حادثہ؟
مچان گرنے کی وجہ ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہے، مگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق مچان کا ڈھانچہ کمزور تھا اور زیادہ وزن کی وجہ سے یہ اپنے وجود میں نہیں رہا۔ جائے وقوعہ پر موجود افراد کی کوئی خاص حفاظتی تدابیر بھی نہیں تھیں جو اس قسم کے حادثات سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں، اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
حکومتی ردعمل اور امدادی کارروائیاں
حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کاموں کو سرعت دیں۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور متاثرین کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ڈی ایم اسمِتا لال اور ایس پی ارپت وجے ورگیہ نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کی حالت کا جائزہ لیا اور انہیں اسپتال منتقل کیا۔
مقامی لوگوں کی تشویش اور غم
اس واقعے نے مقامی عوام کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور لوگ اس حادثے کی مذمت کر رہے ہیں۔ متاثرین کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب حفاظتی اقدامات کی ضرورت تھی تاکہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مذہبی تقریب تھی، اور اس میں شامل ہونے والے لوگ اپنی دینی رسومات ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے، مگر اس حادثے نے ان کے عقیدے کو بھی متاثر کیا ہے۔
معدومیت کی ناپسندیدگی
حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور مقامی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعے کا مکمل جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس تقریب کی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔
نقصان کے اسباب پر غور
اس حادثے نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہمارے مذہبی مقامات پر اور تقریبات میں حفاظتی اقدامات کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایسے واقعات کی روک تھام تسلسل سے کریں۔ اس حادثے کے نتیجے میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے بلکہ لوگوں کی دلیری اور عقیدے میں بھی عدم اعتماد پیدا ہوا ہے۔
انٹرنیٹ پر مزید معلومات
خبر ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں مزید جاننے کے لیے لوگ مقامی نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر نظر رکھیں۔

