موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان کی محنت کا مذاق: ایک کوئنٹل ٹماٹر بیچنے پر صرف 20 روپے منافع! کسانوں کی حالت پر سوالات اٹھنے لگے!

کیا ہے ٹماٹر کی اس حیرت انگیز کہانی؟

ہندوستانی کسانوں کی حالت زار ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، اور حالیہ واقعے نے اس پر مزید روشنی ڈال دی ہے۔ جئے پور کی سبزی منڈی میں ایک کسان نے جب اپنی محنت کے نتیجے میں ایک کوئنٹل ٹماٹر بیچا تو اسے صرف 20 روپے کا منافع ملا۔ یہ رقم ایک طرف تو کسان کی محنت کا مذاق بناتی ہے تو دوسری طرف کسانوں کی مشکلات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ کسان کی اس کہانی نے کانگریس پارٹی کو موقع فراہم کیا کہ وہ مودی حکومت پر تنقید کرسکے۔

اس واقعے میں، کسان کو ایک کوئنٹل ٹماٹر بیچنے کے بعد 160 روپے وصول ہوئے، مگر اس میں بھاڑے اور مزدوری کے 140 روپے کٹنے کے بعد اس کی جیب میں صرف 20 روپے رہ گئے۔ اس صورتحال نے کسانوں کی مشکلات کو مزید اجاگر کیا کہ محنت کے باوجود انہیں منافع نہیں مل رہا۔

کسانوں کی مشکلات کا ذمہ دار کون؟

کانگریس پارٹی نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مودی حکومت کی زراعت سے متعلق پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ کانگریس کے مطابق، مودی حکومت نے دعوے تو کیے ہیں کہ وہ کسانوں کی آمدنی دوگنا کرے گی، لیکن حقیقت میں کسانوں کی حالت بدتر ہوتی جارہی ہے۔

کانگریس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسانوں کو اپنی فصل کی صحیح قیمت نہیں ملی۔ گزشتہ 10 سالوں سے ملک کے کسان ہر بار ایسی ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔” اس طرح کی صورتحال میں کسانوں کی آواز کو دبانا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے بجائے ان پر طاقت کا استعمال کرنا ایک نہایت شرمناک عمل ہے۔

کسانوں کے مطالبات اور حکومت کا رویہ

کسانوں کے مطالبات میں ایم ایس پی (Minimum Support Price) کی فراہمی اور قرض معافی شامل ہیں۔ یہ مطالبات کسانوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں، مگر حکومت کی جانب سے ان کی آواز کو سننے کی بجائے ظلم و جبر کے خلاف کارروائیاں کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

کانگریس نے کہا ہے کہ "آج ملک کے کسان دھرنوں پر بیٹھے ہیں، اور جب ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو نریندر مودی ان کے راستے میں لوہے کی کیلیں ٹھونک دیتے ہیں۔” اس صورتحال میں کسانوں کی مشکلات کو دور کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی محنت کا پھل پاسکیں۔

کیا یہ صورتحال کبھی تبدیل ہوگی؟

بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا یہ صورتحال کبھی تبدیل ہوگی؟ کیا حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسانوں کی مشکلات کا حل تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ملک کی زراعت میں زبردست نقصانات کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

کسانوں کی محنت کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے حکومت کو موثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا اور ان کی آواز کو بلند کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

کسانوں کی داستانیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہمیں ان کی آواز سننے اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم ایک مستحکم زراعتی نظام کی طرف بڑھ سکیں۔

نتیجہ

جئے پور کے ایک کسان کی محنت کا یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے لاکھوں کسانوں کی کہانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مودی حکومت سے نوجوانوں اور کسانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجات اور دھرنے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صورتحال کتنی سنگین ہے۔