موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ: کانگریس کا سوال، کیا خوشحالی آئے گی؟

سیاسی بیان بازی کا آغاز، گنیش گودیال کا وزیر اعلیٰ کو چیلنج

اتراکھنڈ میں آج سے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی میدان میں بیان بازی کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اتراکھنڈ کانگریس کے سابق صدر گنیش گودیال نے ریاستی حکومت، خاص طور پر بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ "یو سی سی کو نافذ کرنے کے بعد آپ ریاست میں خوشحالی کس طرح لائیں گے؟”

گنیش گودیال نے اپنی بات چیت میں کہا کہ "یو سی سی کا نفاذ ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد ریاست کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب ریاست میں بے روزگاری، بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں کی بھرمار ہے۔ "کیا ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے جو مسائل ہم دیکھ رہے ہیں، ان کا حل نکلے گا؟”

یو سی سی کا اثر: عوامی مفادات یا سیاسی فائدہ؟

گنیش گودیال نے یہ سوال اٹھایا کہ "کیا واقعی اس یونیک قانون کے ذریعے عوام کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ "یو سی سی کے نفاذ کا مقصد واضح طور پر عوامی مفادات کی بجائے سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے۔ جو وعدے کیے گئے تھے کہ اس کی وجہ سے خوشحالی آئے گی، وہ اب تک کیسے حقائق میں تبدیل ہوں گے؟”

یہ سوالات اس وقت اٹھتے ہیں جب اتراکھنڈ کی حالت کچھ بہتر نہیں ہے۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی زندگی کے معیاری مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ گودیال نے واضح کیا کہ "کیا وزیر اعلیٰ یہ بتا سکتے ہیں کہ یو سی سی کے تحت ریاست کے نوجوانوں کا کیا ہوگا؟”

مسائل کو دبانے کا ذریعہ؟

گنیش گودیال نے محسوس کیا کہ "یو سی سی کا یہ نفاذ دراصل ریاست میں موجود دیگر بڑے مسائل جیسے بدعنوانی اور بے روزگاری سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ ہے۔” انہوں نے بی جے پی کی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "گزارشات کے بجائے حکومتی کارنامے عوامی خیالات کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ "اگر ہم ماضی کی طرف نظر ڈالیں تو ہمیں انکیتا بھنڈاری کا معاملہ یاد آتا ہے جہاں بے قاعدہ اور بدعنوانی کو چھپانے کے لیے حقیقت کو نظرانداز کیا گیا۔ جب تک مجرموں کے خلاف سخت اقدامات نہیں ہوں گے، حالات کبھی بھی بہتر نہیں ہوں گے۔”

پولیس کے نظام کی ناکامی

گنیش گودیال نے اتراکھنڈ میں لاء اینڈ آرڈر کی ناکامی پر بھی روشنی ڈالی۔ "آپ خود ہی دیکھ لیں، یہاں کے حالات کس قدر بدتر ہو چکے ہیں۔” انہوں نے حال ہی میں ماضی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ڈیڑھ سال پہلے بی جے پی کے ایک وزیر نے ایک شخص کی سڑک پر پٹائی کی تھی، کیا اس وزیر کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟”

یہ سوالات اس وقت اہم ہیں جب ریاست کی حکومت کی جانب سے عوامی تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ "اگر حکومت خود مجرموں کی حمایت کرتی ہے تو پھر اصل مسائل کا حل کیسے ہوگا؟” انہوں نے مزید کہا کہ "جب تک مجرموں کے خلاف سخت قانون سازی نہیں ہوتی، یہ مسائل بڑھتے جائیں گے۔”

معاشی خوشحالی یا سیاہ چہرے؟

گنیش گودیال نے واضح طور پر کہا کہ "ہمارے وزیر اعلیٰ کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا واقعی یو سی سی کے ذریعے ریاست میں خوشحالی لائی جا سکتی ہے؟” ان کے سوالات عوامی رائے کے عکاس ہیں اور ایک ایسا سوال ہیں جس کے جوابات کی ضرورت ہے۔ "ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں ہے، بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔”

ریاست کی حالت اور مستقبل کی امیدیں

یو سی سی کی صورت میں جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، ان کا مثبت اثر تب ہی نظر آئے گا جب ریاستی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے بنیادی اقدامات کرے گی۔ "اگر بی جے پی کے ارکان اپنے وزیروں کی سرپرستی کریں گے تو کیا واقعی ہم امید کر سکتے ہیں کہ ریاست میں خوشحالی آئے گی؟”

یہ تمام سوالات اتراکھنڈ کی سیاست کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ سیاسی بیانات اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود عوامی مسائل کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

گنیش گودیال کے سوالات عوام کی آواز کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں جواب دینا حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ کیا ریاستی حکومت واقعی عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یو سی سی کی کامیابی کے لیے عملی اقدامات کرے گی، یہ ایک سوال ہے جو عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔