موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جلگاؤں ریلوے حادثہ: 13 قیمتی جانوں کا ضیاع، نیپالی شہری بھی شامل، تحقیقات کا مطالبہ

ہولناک حادثہ: جلگاؤں ریل حادثے کی تفصیلات

مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں میں پیش آنے والا ریل حادثہ ایک دلخراش واقعہ ہے جس نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ نیپالی شہریوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی شام تقریباً 5:05 بجے پیش آیا جب لکھنؤ سے ممبئی جانے والی پشپک ایکسپریس ٹرین میں افواہیں پھیل گئیں کہ ٹرین میں آگ لگ گئی ہے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں 4 نیپالی شہری بھی شامل ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے نہ صرف متاثرہ افراد کے خاندانوں کو بلکہ پورے علاقے میں ایک افسردگی کی لہر دوڑا دی ہے۔

حادثے کی تفصیلات کے مطابق، جب مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تو کئی لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ٹرین سے کودنے لگے، لیکن اسی دوران دوسری سمت سے آنے والی ٹرین کی زد میں آ کر یہ لوگ شدید زخمی ہوئے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ حادثے میں 10 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

حکام کی رپورٹ اور مرنے والوں کی شناخت

جلگاؤں کے کلکٹر اور ضلعی مجسٹریٹ نے اس حادثے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 7 مرنے والوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 6 کی شناخت ابھی باقی ہے۔ مرنے والوں میں 4 خواتین بھی شامل ہیں، جو اس حادثے کی دلخراشی کو مزید بڑھاتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ حادثہ بنیادی طور پر انسانی غلطی اور حفاظتی تدابیر کی کمی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

راہل گاندھی کا ردعمل اور حکومت سے مطالبات

نیشنل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ “جلگاؤں میں پیش آنے والا یہ بھیانک ریل حادثہ انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔” انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ زخمیوں کا بہترین علاج یقینی بنائیں اور حادثے کی فوری تحقیقات کرائیں۔

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ “ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے” تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ کانگریس کے رہنما نے اپنے کارکنان سے بھی اپیل کی کہ وہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں انتظامیہ کی مدد کریں۔

حکومتی اقدامات اور ردعمل

حکومت نے اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وزیر ریلوے نے اس حادثے کی انکوائری کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ اس واقعہ کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔

سب کے علاوہ، حادثے کے متاثرین کے لئے مالی امداد کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ ان خاندانوں کی مدد کی جا سکے جو اس دلخراش واقعہ میں اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔

قومی ردعمل

اس حادثے کی خبر نے پورے ملک میں صدمے کی لہریں دوڑا دی ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر حکومت سے سوالات کیے ہیں کہ آیا ریلوے نظام کی حفاظت کو بہتر بنایا گیا ہے یا نہیں۔

کئی لوگوں نے اس حادثے کی بھرپور مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں سخت سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔

محبت اور اتحاد کی ضرورت

اس حادثے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس فضاء کو بہتر بنائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے۔