موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نکسلیوں کے خلاف چھتیس گڑھ میں بڑے آپریشن کے دوران 19 ہلاکتیں، سرچ آپریشن جاری

پولیس اور نکسلیوں کی گھمسان کی جنگ: گریا بند میں 19 نکسلی ہلاک، تصادم کا سلسلہ جاری

چھتیس گڑھ کے گریا بند ضلع میں جاری آپریشن کے دوران پولیس اور نکسلیوں کے درمیان شدید تصادم میں 19 نکسلیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کاروائی اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ کی سرحد پر واقع کلہاڑی گھاٹ کے جنگل کے علاقے میں ہوئی ہے۔ یہاں پر متحرک نکسلیوں کی تعداد میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، یہ تصادم اتوار کی رات سے شروع ہوا اور پیر کی رات تک جاری رہا۔ اس دوران سلامتی فورسز نے نہ صرف نکسلیوں کو ہلاک کیا بلکہ اسلحہ بھی برآمد کیا۔

چھتیس گڑھ کی پولیس نے ایک خاتون نکسلی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے، جب کہ آپریشن کے دوران کوبرا بٹالین کے ایک جوان کو بھی شدید زخمی حالت میں ایئر لفٹ کر کے رائے پور منتقل کیا گیا ہے۔

عملیاتی تفصیلات: مشترکہ فورسز کی کارروائی

پولیس نے بتایا کہ اس آپریشن میں چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ کی پولیس کی دس ٹیمیں شامل تھیں۔ ان میں اوڈیشہ کے 3 اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، چھتیس گڑھ کی 2 ٹیمیں اور 5 سی آر پی ایف کی ٹیمیں شامل تھیں۔ یہ کارروائی تیز گھیرابندی اور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس کے دوران نکسلیوں نے بھی فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا۔ پولیس کی جانب سے موثر جوابی کارروائی میں 19 نکسلی ہلاک ہوئے۔

گریا بند کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) نے تصدیق کی ہے کہ تصادم ابھی بھی جاری ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، دو لاشیں بھی موقع سے برآمد کی گئی ہیں اور مجموعی طور پر 19 نکسلیوں کی لاشیں علاقے سے مل چکی ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ

واقعہ کے بعد، کلہاڑی گھاٹ کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ بھاٹی گڑھ اسٹیڈیم کو عارضی طور پر چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اضافی سلامتی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ تصادم کے دوران، پولیس نے 3 آئی ای ڈیز بھی برآمد کیے، جو نکسلیوں کی منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔

پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارے گئے نکسلیوں میں سے 10 کی شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ واقعہ اس سے قبل کے ایک بڑے تصادم کو بھی یاد دلاتا ہے، جس میں 16 جنوری کو چھتیس گڑھ-تلنگانہ بارڈر پر 18 نکسلی ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک انعامی نکسلی بھی شامل تھا جس پر 50 لاکھ روپے کا انعام تھا۔

جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کے نتیجے میں نکسلیوں کی کاروائیوں میں کمی کی امید کی جا رہی ہے۔

نکسلیوں کے خلاف لڑائی: منظرنامہ اور اثرات

یہ کارروائی چھتیس گڑھ میں جاری نکسلی تحریک کی تازہ ترین جھلک ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے نکسلیوں کے خلاف بار بار آپریشنز کر رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ ایک ایسی ریاست ہے جہاں نکسلی تحریک اپنے عروج پر ہے اور حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔

مقامی افراد کی جانب سے بھی پولیس کی کاروائیوں کی حمایت کی جا رہی ہے، تاہم کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح کے آپریشنز سے عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اس مسئلے پر حل نکالنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک جامع حکمت عملی تیار کرے، جس میں مقامی آبادی کی شمولیت اور ان کے خدشات کو سمجھنا بھی شامل ہو۔

مزید تفصیلات کے مطابق، علاقے میں نکسلیوں کی سرگرمیوں میں کمی لانے کے لئے حکومت نے خاص اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا، مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی، اور تعلیمی مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔

علیحدہ رپورٹس اور مستقبل کے پیش نظر

جیسے ہی یہ تصادم جاری ہے، پولیس اور دوسروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی مزید کارروائیاں ہوں گی تاکہ نکسلیوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے سخت گیر اقدامات کیے جا سکیں۔ حال ہی میں، مرکزی حکومت نے چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے تعاون میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ نکسلی تحریک کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

حکومت اور مقامی انتظامیہ اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے موثر تشہیری مہم چلائیں تاکہ عوام میں سلامتی کا احساس پیدا کیا جا سکے۔ یہ سب اس کے لئے اہم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نکسلیوں کو قابو میں رکھ سکیں۔