موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کیجریوال کی بی جے پی پر تنقید: غریبوں کو راکشسوں کی طرح نگلنے کی دھمکی

نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی، کیا بی جے پی واقعی غریبوں کے لیے خطرہ ہے؟

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے حال ہی میں بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے، جسے ان کے مطابق، دہلی کے غریب طبقے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ کیجریوال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر بی جے پی کو عوام نے منتخب کیا تو وہ غریبوں کو راکشسوں کی طرح نگل جائیں گے۔ انہوں نے اس بیان میں بی جے پی کی فطرت کو راون کے کردار سے تشبیہ دی، جس کی تفصیل ان کے بیان میں بھی موجود ہے۔

کیجریوال نے کہا کہ دہلی کے عوام کو ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے آگے آنا ہوگا، کیونکہ بی جے پی کی حکمت عملی غریب عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس موقع پر دہلی کے جھگیوں میں رہنے والوں کو خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور کیجریوال نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ یہ لوگ بے بنیاد خوف پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔

غریبوں کی فلاح و بہبود یا سیاسی کھیل؟

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کیجریوال نے اپنی تقریر میں خاص طور پر جیسیو کی داستان کا ذکر کیا، جہاں راون سونے کا ہرن بن کر آیا۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کہانی کا پیغام یہ ہے کہ عوام کو بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آنا چاہئے۔ کیجریوال نے کہا کہ "یہ لوگ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔”

بی جے پی نے کیجریوال کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنماؤں نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بے وقوفی کو بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا ہے کہ کیجریوال کو رامائن کی کہانی کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں اور انہیں سچائی کا علم نہیں۔

دہلی کی سیاست میں جذبات اور احتجاج

بی جے پی کے کارکنوں نے بھی کیجریوال کے گھر کے باہر احتجاج کیا، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیجریوال اپنے الفاظ واپس لیں۔ اس احتجاج کے دوران کیجریوال نے بی جے پی کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ لوگ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔

کیجریوال نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ "غریب طبقہ بی جے پی کی راکشس فطرت سے محفوظ نہیں رہے گا، اگر انہیں منتخب کیا گیا تو وہ دہلی کے عوام کے حق میں نہیں آئیں گے۔”

دہلی کے عوام کا کیا ہوگا؟

دہلی میں اس وقت سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ نے عوام میں بھی خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ کیجریوال کی حکومت نے دہلی کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پوری کوشش کی ہے، جبکہ بی جے پی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے مشہور ہو گئی ہے۔

خاص طور پر جھگیوں میں رہنے والے لوگ اس تناؤ کا اثر محسوس کر رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں دہلی کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت میں جائیں گے۔ کیا وہ بی جے پی کو منتخب کریں گے یا کیجریوال کی قیادت پر بھروسہ کریں گے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو عوام کے سامنے ہے۔

شہریوں کی رائے

دہلی کے شہریوں کی رائے بھی اس مسئلے پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ کیجریوال کے بیانات عوام کو خوف میں مبتلا کر رہے ہیں، جبکہ کچھ بی جے پی کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، یہ کہنا مشکل ہے کہ عوام کی رائے کیا ہوگی۔

اس سیاسی کشیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دہلی میں معیشتی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کیا یہ صرف سیاسی کھیل ہے؟

کیا یہ سب کچھ صرف سیاسی کھیل ہے یا واقعی عوام کے مفادات کے لئے ایک اہم سوال ہے۔ عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عوامی مسائل کی حقیقی حفاظت کر رہے ہیں، جبکہ بی جے پی کی جانب سے سخت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں یہ خطرہ لاحق ہے کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ رہی ہے۔