دہلی سمیت شمالی ہندوستان میں شدید کہرے کی لہر، پروازوں میں تاخیر کا سبب
دہلی اور اتر پردیش سمیت شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں موسم کی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد، کہرے نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ آج صبح دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زیرو ویزیبلٹی کی صورتحال دیکھی گئی، جس کے باعث متعدد پروازیں متاثر ہوئیں۔ یہ مسلسل سرد ہواؤں کی وجہ سے ہے کہ شہریوں کو انتہائی سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آج صبح بتاتے ہوئے کہا کہ دہلی کے علاوہ پنجاب، ہریانہ، اور راجستھان کے مختلف حصے بھی گھنے کہرے میں لپٹے ہوئے ہیں۔ دیگر ریاستوں جیسے اتر پردیش، شمالی مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ، اور چھتیس گڑھ نے بھی کہر کی شدت کا ذکر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مسافروں کی زندگی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
موسم کی ترقی: درجہ حرارت اور بارش کی پیشگوئی
موسمیاتی ماہرین کے مطابق، آج دہلی میں کم از کم درجہ حرارت آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ انیس ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ تیز سرد ہوائیں چلنے کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے، جو شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سکائی میٹ کے مطابق، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقے بھی ہلکی بارش اور برفباری کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
یہاں یہ بھی ذکر ضروری ہے کہ آئندہ تین دنوں میں درجہ حرارت میں کچھ بہتری کی امید ہے، خاص طور پر شمالی اور شمال مغربی ہندوستان میں۔ تاہم، ہماچل پردیش اور دیگر پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدت ثابت ہوسکتی ہے۔
کہرے کے نقصانات: مسافروں اور روزمرہ زندگی پر اثرات
کہرے کی شدت کے باعث کئی ایئر لائنز کو اپنی پروازوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے دہلی، پنجاب، ہریانہ، اور راجستھان میں اورینج الرٹ جاری کیا ہے۔ یہ الارم ان لوگوں کے لئے ہے جو باہر نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں، خاص طور پر بسوں اور گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، کئی لوگ اس سردی کے سبب صحت کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، جیسے سردی لگنے اور کھانسی۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے طبی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہدایات
محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر کر رہے ہیں تو مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سردی سے بچنے کے لئے گرم لباس پہننے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید براں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ ہوا میں موجود دھند کی وجہ سے اپنی آنکھوں کی حفاظت کریں اور رابطے میں آنے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔
محکمہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ کہرے کی شدت میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت، اور شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔
موسم کی تبدیلی: بھارت کی نوجوان نسل کی آواز
موسمی تبدیلیوں کا اثر صرف موجودہ نسل پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں آگاہی پیدا کریں اور اپنی آواز بلند کریں۔ ان تبدیلیوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ ہم اپنے ماحول کو بہتر بنا سکیں۔
بہرحال، یہ کہنا نہیں بھولنا چاہیے کہ اس موسم کی تبدیلی اور کہرے کی شدت ہم سب کے لیے ایک چیلنج ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں، مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں، تو ہم اس موسم کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔

