موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس کا دہلی میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی پر الزام، ‘نورا کشتی’ کی شروعات

نئی دہلی میں سیاسی منظر نامہ: دہلی کے عوام کے حقوق پر سوالات

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے دہلی کے سیاسی منظرنامے میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی (عآپ) کی مشترکہ حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے، جسے پارٹی نے ایک واضح ‘ڈبل فراڈ’ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے صحافیوں کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ دہلی کی موجودہ حکومتوں نے عوام کے حقوق کی پامالی کی ہے اور انہیں ایک فٹ بال کی طرح کھیلنے دیا ہے۔

کیا ہوا؟

پون کھیڑا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ دہلی کے عوام گزشتہ دہائی میں دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ناقص کھیل کا شکار بنے ہیں، جہاں بی جے پی اور عآپ نے اپنی سیاست کے مفادات کے لیے عوامی مسائل کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہلی میں صحت کی سہولیات، سڑکوں کی حالت، اور عوامی خدمات میں جدوجہد کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی زندگی میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

کہاں ہو رہا ہے؟

یہ سب کچھ دہلی میں ہو رہا ہے، جہاں 5 فروری کو اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ کھیڑا کا کہنا تھا کہ اس میں عوام کی امیدیں اب صرف کانگریس سے وابستہ ہیں، کیونکہ وہ ہی دہلی کے مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔

کب ہوا؟

یہ صورتحال دہلی میں گزشتہ دس سالوں میں تجاوزات کی پالیسیوں، کورونا وبا کے اثرات، اور دیگر قدرتی آفات کے تناظر میں بنی ہے۔ کھیڑا نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی میں عوامی خدمات کی عدم دستیابی ایک ‘ایکٹ آف فراڈ’ ہے، جو کہ 2013 سے اب تک بڑھتا جا رہا ہے۔

کیوں ہو رہا ہے؟

دہلی کی موجودہ سیاسی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اپنی سیاسی طاقت کے لیے عوامی مسائل کا استحصال کر رہی ہیں۔ کھیڑا نے کہا کہ دونوں رہنما عوام کے سامنے اپنی ناکامیوں کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے دہلی کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔

کیسے ہوا؟

یہ سب کچھ دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت ہوا ہے، جہاں سیاسی مفادات کی خاطر عوامی مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کھیڑا نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی کو ان کے طریقوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے کانگریس کی طرف دیکھنا ہوگا۔

آنے والے انتخابات میں تبدیلی کی ضرورت

پون کھیڑا نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی کی عوام کو اس بار سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہوگا تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔ انہوں نے کہا، "آج دہلی کی گلیوں، سڑکوں اور پارکنگ کی حالت ابتر ہے۔ نشے کی لت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔”

کھیڑا کی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دہلی کی عوام کو اب مزید حالات برداشت نہیں کرنے چاہئیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کانگریس ہی دہلی کے مسائل کو صحیح طریقے سے حل کر سکتی ہے۔

عوام کی امیدوں کا محور: کانگریس

انہوں نے عوام کی امیدوں کا محور کانگریس کی جانب موڑتے ہوئے کہا، "جب ہم ذمہ داری کا سوال کرتے ہیں تو بڑے میاں کہتے ہیں چھوٹے میاں جواب دہ ہیں، اور چھوٹے میاں کہتا ہے کہ بڑے میاں ذمہ دار ہیں۔ ان کی یہ ‘نورا کشتی’ دہلی کے عوام کے حقوق کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔”

کھیڑا نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں اور اس بار اپنے حق میں ووٹ دیں تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کے حوالے سے فیصلہ کر سکیں۔ "دہلی اب مزید ان حالات کو برداشت نہیں کرے گی،” انہوں نے کہا۔

دہلی کی تاریخ میں ایک نیا باب

اس وقت دہلی کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ 5 فروری کو ہونے والے انتخابات عوام کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور اپنی زندگی کی معیاری بہتری کے لیے فیصلہ کریں۔

کھیڑا کا کہنا تھا کہ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی نے مل کر دہلی کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے، اور اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا سامنا کریں۔