پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے نشے کی لعنت سے نمٹنے اور عوامی صحت کی بہتری کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے 600 کروڑ روپے کی مالی امداد کی درخواست کی ہے۔ یہ امداد خصوصی این ڈی پی ایس عدالتوں کے قیام کے لیے درکار ہے تاکہ نشیلی اشیاء کے مقدمات کی سماعت کو تیز کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان کا نشے کے مسئلے کے حوالے سے اہم بیان
بھگونت مان نے اس بات کا ذکر کیا کہ پنجاب میں نشے کی وبا سماجی-اقتصادی توازن کو بگاڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں جرائم، گھریلو تشدد اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں نشیلی اشیاء کی اسمگلنگ اور قومی سلامتی پر ایک ویڈیو لنک کے ذریعے علاقائی کانفرنس میں بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں نشے سے متعلق 35,000 مقدمات یکم جنوری 2025 تک زیر التوا ہیں، اور اگر موجودہ نپٹارہ کی رفتار برقرار رہی تو یہ تعداد آئندہ 5 سالوں میں بڑھ کر 55,000 تک پہنچ جائے گی۔
بھگونت مان نے جرم کی روک تھام کے لیے 79 نئی خصوصی این ڈی پی ایس عدالتوں کے قیام اور ان کے لیے پروزکیوٹرس کی بھرتی کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ مقدمات کو تیزی سے نپٹانے میں مدد مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہر سیشن عدالت کو ایک مقدمے کی سماعت میں اوسطاً 7 سال لگتے ہیں، جو کہ پنجاب کے عوام کے لیے غیر موزوں ہے۔
اس مالی امداد کی درخواست میں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر سال 60 کروڑ کی امداد درکار ہوگی جو کہ 10 سال کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام نہ صرف نشے کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عوامی صحت اور سماجی امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
پنجاب میں نشے کی صورتحال اور حکومت کی کارکردگی
پنجاب حکومت نے پچھلے ڈھائی سالوں میں این ڈی پی ایس قانون کے تحت تقریباً 31,500 مقدمات درج کیے ہیں، جس میں 3,000 کلوگرام ہیروئن، 2,600 کلوگرام افیون، اور 4.3 کروڑ روپے کی قیمت کے فارماسیوٹیکل ڈرگس کے ساتھ 43,000 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف نشے کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اس بارے میں کیے گئے اقدامات کی شدت کو بھی واضح کرتے ہیں۔
جس طرح سے نشے کا مسئلہ بڑھ رہا ہے، اس کی تیز رفتار قانونی کارروائی کی ضرورت واضح ہے۔ بھگونت مان کی جانب سے اس مسئلے کی طرف توجہ دینا اور خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز ایک اہم قدم ہے، جو کہ نشے کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
یہاں تک کہ مرکزی حکومت سے مالی امداد کی درخواست ایک مثبت علامت ہے، جو کہ نشے کے خلاف حکومتی عزم کو بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔
پنجاب کی عوامی صحت اور سماجی مسائل کے اثرات
بھگونت مان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نشے کے مسئلے کا تعلق صرف انفرادی صحت سے نہیں بلکہ سماجی تانے بانے سے بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نشے کے بڑھتے اثرات کی وجہ سے معاشرتی امن میں خلل واقع ہوا ہے، جس سے گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال پنجاب میں نوجوانوں کی زندگیوں پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے، کیوں کہ بہت سے نوجوان نشے کی عادت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
اس ریاست میں نشے کے خلاف جنگ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے جسے ہم سب کو مل کر حل کرنا ہوگا۔ ان عدالتوں کے قیام سے نہ صرف نشے کے مقدمات میں تیزی آئے گی بلکہ یہ سماج میں ایک مثبت تبدیلی کا باعث بھی بنے گی۔
مستقبل کی راہیں اور نشے کے خلاف اقدامات
پنجاب حکومت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ خصوصی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات، علاج معالجہ کی سہولیات، اور نوجوانوں کی تربیت کے پروگرام بھی ضروری ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف نشے کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوگی بلکہ ایک صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکے گا۔
بھگونت مان کا یہ مطالبہ ایک اہم علامت ہے کہ حکومت نشے کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار ہے۔ جیسے کہ یہ مسئلہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی بھی ہے، اس لیے اس کے حل کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
جیسے کہ پنجاب میں یہ صورتحال جاری ہے، حکومتی اور عوامی سطح پر تعاون اور آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ اس لعنت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

