کیا ہوا، کب ہوا، کہاں ہوا: بی جے پی رہنما راٹھور کے گھر چھاپے کی تفصیلات
مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں انکم ٹیکس کے محکمہ نے ایک بڑی کارروائی کی ہے جس میں بی جے پی کے سابق ایم ایل اے ہرونش سنگھ راٹھور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ یہ کارروائی کچھ دنوں سے جاری تحقیقات کے نتیجے میں کی گئی، جن کا تعلق راٹھور کے کاروباری پارٹنر راجیش کیسروانی کے بیڑی کاروبار میں ٹیکس چوری کے الزامات سے ہے۔ چھاپے کے دوران گھر سے سونا، کروڑوں روپے نقد، اور بے نامی امپورٹیڈ کاریں برآمد کی گئی ہیں۔ لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ راٹھور کے گھر کے اندر ایک تالاب میں 4 مگرمچھ موجود تھے، جنہیں دیکھ کر انکم ٹیکس کی ٹیم بھی دنگ رہ گئی۔
بزرگ سیاستدان راٹھور، جو ساگر میں مشہور ہیں، 2013 میں پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے ماضی میں بھی کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں، ان کے والد ہرنام سنگھ راٹھور خود بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ انکم ٹیکس افسران نے حال ہی میں کیسروانی اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارنا شروع کیا تھا اور یہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
چھاپے کی تفصیلات: کیسے اور کیوں کا سوال
چھاپہ جمعہ کے روز مارا گیا، جس میں انکم ٹیکس افسران نے بروقت ایک تالاب کے اندر 4 مگرمچھ کو دیکھا۔ ان افسران نے فوراً اس کی اطلاع مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کو دی۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قابل ذکر واقعہ ہے، کیونکہ مگرمچھوں کا اس طرح کسی نجی رہائش گاہ میں پایا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔ فاریست فورس کے سربراہ اسیم شریواستو نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مگرمچھوں کو بحفاظت تحویل میں لینے کے اقدامات جاری ہیں۔
جیسا کہ انکم ٹیکس کے افسران نے بتایا، گزشتہ کچھ دنوں کے دوران تقریباً 155 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ اس میں سے 3 کروڑ روپے نقد اور قیمتی دھاتوں کی مقدار بھی شامل ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سابق ایم ایل اے کی خود کی 140 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری سامنے آئی ہے، جو کہ کنسٹرکشن کاروبار سے وابستہ ہے۔
انکشافات کا دائرہ: کیا مستقبل میں مزید تحقیقات ہوں گی؟
اس حیران کن واقعے کی تفصیلات نے لوگوں کے ذہنوں میں سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا یہ صرف ایک ابتدائی کارروائی ہے یا مستقبل میں اس کے خلاف مزید تحقیقات کی جائیں گی۔ انکم ٹیکس کے ادارے نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وہ مزید تحقیقات کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے میں تمام ممکنہ شواہد کو مد نظر رکھیں گے۔
اس سلسلے میں، انکم ٹیکس کے افسران نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کیسروانی اور ان کے ساتھیوں کے کاروبار کے تمام مالی ریکارڈز کا مکمل جائزہ لیں گے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا ان کی سرگرمیاں قانون کے دائرے کے اندر ہیں یا نہیں۔
محکمہ جنگلات نے بھی مگرمچھوں کی صحت کی جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں محفوظ طریقے سے واپس ان کے قدرتی ماحول میں چھوڑا جا سکے۔ اس واقعے نے عوامی حلقوں میں بھی کافی تبصرے پیدا کیے ہیں اور یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ سیاست اور کاروبار کے اس ملغوبے میں اور کیا راز چھپے ہیں۔
عوامی رد عمل: سیاسی تبصرے اور آئندہ کی ممکنہ کارروائیاں
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کافی ہلچل مچی ہوئی ہے، جہاں لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے یا اس کے پیچھے بڑے سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ کچھ سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو مدھیہ پردیش میں ہونے والی موجودہ سیاسی تبدیلیوں سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
چند سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں سختی سے کارروائی کرے۔ ایک مقامی سیاستدان نے انکشاف کیا کہ یہ صرف آغاز ہے اور اگر تحقیقات کا دائرہ بڑھتا ہے تو مزید بی جے پی رہنما بھی اس کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
مکمل معلومات کے لیے مزید پڑھیں
اگر آپ اس واقعے کے مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو آپ پڑھ سکتے ہیں[یہاں](https://www.ndtv.com)، جبکہ اگر آپ کو انکم ٹیکس کے قوانین کے بارے میں مزید معلومات درکار ہیں تو آپ[یہاں](https://www.incometaxindia.gov.in) جا سکتے ہیں۔ اس چھاپے میں پائے جانے والے مگرمچھوں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، آپ محکمہ جنگلات کی سرکاری ویب سائٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
یہ واقعہ مدھیہ پردیش کی سیاست میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اس واقعے کے بعد کوئی بڑے سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی یا نہیں۔

