دہلی کی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے مہیلا سمان یوجنا: حقیقت یا سیاست؟
دہلی میں عام آدمی پارٹی کی نئی مہیلا سمان یوجنا کو لے کر سیاسی ہلچل جاری ہے۔ اس اسکیم کی حالیہ شروعات کے بعد دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ تحقیقات پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں جب کانگریس کے لیڈر سندیپ دکشت نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی نے وعدہ تو بہت کیا لیکن ابھی تک اس کے نوٹیفکیشن کا اجرا نہیں کیا۔ لہذا، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی کامیاب ہوگا یا صرف سیاسی ہتھکنڈے ہیں؟
تحقیقات کے پس منظر میں، سندیپ دکشت کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے، ایل جی نے دہلی کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کے عمل کا جانچ کریں۔ اس واقعہ نے دہلی کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جن کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا یہ اسکیم واقعی خواتین کے مفاد میں ہے یا اس کا استعمال صرف سیاسی فائدے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کیجریوال نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس ان کی اسکیم کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتی ہیں۔
تحقیقات کی وجہ اور دیگر الزامات
ایل جی نے مہیلا سمان یوجنا کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی ہے کہ پنجاب کی انٹیلی جنس پولیس کے بارے میں کانگریس کے رہنما کی شکایت کی بھی جانچ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، دہلی انتخابات میں پیسہ کی مبینہ منتقلی کے بارے میں بھی تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کی بنیاد پر اب یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ دہلی کی سیاست میں آگے کیا ہوگا۔
سندیپ دکشت نے واضح الزام عائد کیا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے صرف انتخابی فائدے کے لئے یہ اسکیم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "آپ نے پنجاب میں بھی ایسے ہی وعدے کیے، مگر انہیں پورا نہیں کیا۔” اس کے ساتھ ہی، بی جے پی کے لیڈر پرویش ورما نے بھی کیجریوال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت نے خواتین کے لئے کارڈ جاری کیے ہیں۔
دہلی کی خواتین کو کیا فوائد ملیں گے؟
عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں، تو ہر خاتون کو 2100 روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم کا مقصد خواتین کی خود مختاری کو فروغ دینا اور انہیں اقتصادی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ تاہم، اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ یہ اسکیم صرف وعدے ہی ہیں اور اس کی حقیقی حیثیت ابھی تک مشکوک ہے۔
یہ مسئلہ اس لئے بھی حساس بن گیا ہے کہ دہلی انتخابات قریب ہیں اور اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اور جھارکھنڈ جیسے دیگر ریاستوں میں بھی خواتین کے لئے ایسی اسکیمیں کامیاب رہی ہیں، جنہوں نے سیاسی جماعتوں کو ایک نئی قوت بخشی ہے۔
سیاسی ردعمل اور مستقبل کی توقعات
دہلی کی سیاست میں اس وقت جو ہلچل جاری ہے، اس کا اثر خاص طور پر عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پڑرہا ہے۔ کیجریوال کا کہنا ہے کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں نہیں آئی تو بی جے پی اور کانگریس اس اسکیم کو روک دیں گی، جس پر دونوں جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے عام آدمی پارٹی پر شدید حملے کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف فلاحی اسکیم نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی جنگ کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ، اس اسکیم کے تحت کاغذی کارروائی کی جانچ نے بھی اس کی حقیقی نوعیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ کیجریوال کا استدلال ہے کہ یہ ایک انتخابی کارڈ ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ حقیقت میں نافذ کیا جا سکے گا۔
دہلی میں خواتین کی فلاح و بہبود: سیاسی یا حقیقی؟
اس تمام صورتحال میں، عام آدمی پارٹی کی جانب سے شروع کی جانے والی مہیلا سمان یوجنا کو اب ایک بڑی چیلنج کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس کا مقصد خواتین کی ترقی ہے، لیکن سیاست میں اس کی حقیقت کو جانچنے کے لئے مزید شفافیت اور واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا یہ اسکیم واقعی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے موثر ثابت ہوگی یا یہ محض سیاسی مفادات کے لئے ایک ہتھیار بن کر رہ جائے گی؟

