کشمیر میں شدید برفباری کی وجہ سے مشکلات کا سامنا
کشمیر میں شدید برفباری کے باعث عام زندگی متاثر ہو گئی ہے۔ وادی کشمیر مسلسل دوسرے دن ملک اور دنیا کے دیگر حصوں سے فضائی، ریل اور زمینی رابطوں سے مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے۔ جموں-سری نگر قومی شاہراہ اور مغل روڈ سمیت تمام اہم سڑکیں بند ہیں۔ برفباری کے باعث لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بجلی اور پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب جموں کے پتنی ٹاپ، نتھا ٹاپ اور سناسر میں بھی صبح کے وقت برفباری ہوئی۔ کم روشنی اور رنوے پر برف کی موجودگی کی وجہ سے سری نگر ہوائی اڈہ پر دوسرے دن بھی طیاروں کی آمد و رفت بند رہی اور جموں ایئر پورٹ پر کسی طیارے نے کوئی پرواز نہیں بھری۔ اس صورتحال میں بچوں اور بزرگوں کی صحت پر بھی اثر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے محکمہ موسمیات نے حساس علاقوں میں لینڈ سلائڈ کی وارننگ جاری کی ہے۔
حکومت کی جانب سے اقدامات
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ برف ہٹانے کے کام کی نگرانی کریں تاکہ لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ افسروں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے میدانی علاقوں میں زیادہ برفباری ہوئی، جبکہ وسطی کشمیر کے میدانی علاقوں میں درمیانی سطح کی برفباری کی اطلاع ملی ہے۔ شمالی کشمیر کے میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی سطح کی برفباری ہوئی ہے، جو کہ وہاں کے لوگوں کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
جموں-سری نگر قومی شاہراہ (این ایچ-44) کی بندش کی وجہ سے جموں سے سری نگر جانے والی گاڑیوں کو اودھم پور میں روک دیا گیا ہے۔ برفباری کی شدت نے محکمہ ہائی وے کے اہلکاروں کے لئے کام کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔ برف ہٹانے کے کام میں رکاوٹیں آرہی ہیں، جس کے اثرات روزمرہ کی زندگی پر واضح نظر آرہے ہیں۔
آئندہ کا موسم اور ممکنہ اثرات
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں وادی کے بیشتر علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر حکام نے لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ خاص طور پر سڑکوں کی حالت میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے، جس کی وجہ سے سفر کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ لوگ اس صورتحال کے باعث قید محسوس کر رہے ہیں، اور عید میلاد النبی جیسی اہم تقریبات کے دوران بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان تمام مسائل کے ساتھ، کشمیر میں انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں رکاوٹ ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کے باوجود برفباری کا اثر عوامی زندگی پر نمایاں ہے۔
لوگوں کی حالت اور ردعمل
علاقے کے لوگوں کا ردعمل بھی تشویشناک ہے۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر اپنی ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں، اور حکومت سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ان کی مشکلات کے حل کے لئے فوری اقدامات کرے۔ کسی نے کہا کہ "ہم زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی حاصل کرنے سے قاصر ہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ہمارے لئے گزارا کرنا مشکل ہو جائے گا۔”
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش اور پانی کی کمی نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ اسکولوں میں برف باری کی وجہ سے بندش کے باعث وہ نہیں جا پا رہے ہیں۔
حکومتی اقدامات اور آگے بڑھنے کی حکمت عملی
حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی میٹنگز طلب کی ہیں۔ ان میٹنگز میں برف ہٹانے، بجلی اور پانی کی فراہمی کو بحال کرنے کے لئے فوری اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حساس علاقوں میں لینڈ سلائڈنگ سے بچاؤ کے لئے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
انتظار کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی متاثرہ لوگوں کے لئے امدادی پروگرام شروع کیا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ ضروری ہے کہ عوامی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لئے بہترین اور فوری اقدامات کئے جائیں۔

