جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارہ حادثے کی مکمل تفصیلات
خبر رساں ادارے روئٹرز کی مطابق، جنوبی کوریا میں ایک بڑا طیارہ حادثہ پیش آیا ہے جس میں 23 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ یہ حادثہ منگل کی رات کو ہوا جب جیجو ایئر کا ایک طیارہ، جو تھائی لینڈ سے واپس آ رہا تھا، موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے وقت رن وے سے پھسل کر دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس طیارے میں 175 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔
حادثے کی رپورٹ کے مطابق، جیسے ہی طیارہ لینڈنگ کے لیے تیار ہوا، اس کا کنٹرول کھو گیا اور یہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ ایئرپورٹ کے اہلکاروں نے واقعے کی اطلاع دی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ کئی دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دنیا بھر میں ہوائی سفر کی گنجائش بڑھ رہی ہے، اور یہ واقعہ ہوائی جہاز کے حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سوالات اٹھاتا ہے۔ حکام نے فوری طور پر ہنگامی خدمات کو موقع پر طلب کیا، اور فائر حکام نے بتایا کہ انہوں نے طیارے میں لگی آگ پر قابو پا لیا ہے۔
مواقع اور اثرات
یہ واقعہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جو جنوبی کوریا کی سب سے بڑی ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ اس ایئرپورٹ کی اہمیت بے حد ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی اور ملکی پروازوں کا مرکز ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف متاثرین کے خاندانوں کے لیے ایک المیہ ہے بلکہ جنوبی کوریا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
حادثے کے بعد، ایئرپورٹ کے اہلکاروں نے کہا کہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مزید ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے اس حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس میں جانچ کی جائے گی کہ آیا اس واقعے میں انسانی غلطی یا تکنیکی خرابی شامل تھی۔
سرکاری ردعمل
جنوبی کوریا کی حکومت نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔
اس کے ساتھ ہی، ماضی میں ہونے والے دیگر طیارہ حادثات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا یہ حادثہ ایک الگ واقعہ ہے یا یہ کسی بڑی مسئلے کی علامت ہے۔
عالمی سطح پر ردعمل
اس حادثے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل آیا ہے۔ کئی ممالک نے جنوبی کوریا کو تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ وہ ممالک جن کا ایئر لائنز جنوبی کوریا کے ساتھ فعال ہیں، ان کی جانب سے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس حادثے کے باعث دنیا بھر میں ہوائی سفر کے حوالے سے لوگوں میں ایک نئی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ ہوائی جہاز کی سلامتی کے بارے میں مزید تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ایوی ایشن انڈسٹری کو اپنی سیکیورٹی پروسیجرز پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
متعلقہ حادثات
یونہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ ایسے وقت ہوا ہے جب حال ہی میں ایک اور طیارہ حادثہ پیش آیا تھا جس میں روسی صدر ولادمیر پوتن نے آذربائیجان کے صدر سے معافی مانگی تھی۔ اس واقعے میں 38 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی سفر کی دنیا میں دیگر مسائل بھی موجود ہیں، جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
کیا مستقبل محفوظ ہے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جنوبی کوریا کی حکومت اس حادثے کے بعد ایوی ایشن سیکیورٹی میں بہتری لا سکے گی یا نہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے اور حادثات پیش آ سکتے ہیں، جو کہ عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

