موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آخری وداعی، کانگریس رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود

کہاں، کب، کیوں، کون اور کیسے: منموہن سنگھ کے وداعی کی تمام تفصیلات

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا جسد خاکی کانگریس کے مرکزی دفتر میں موجود ہے، جہاں پر انہیں آخری وداعی دی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ دہلی میں پیش آیا ہے اور اس موقع پر مختلف سیاسی رہنما اور اہم شخصیات جمع ہو چکی ہیں۔ ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کا وقت 11:45 بجے مقرر کیا گیا ہے، اور یہ رسومات نگم بودھ گھاٹ پر انجام دی جائیں گی۔

یہ اہم واقعہ آج صبح پیش آیا جب فوج کی ایک گاڑی نے کانگریس دفتر کے باہر رک کر، ترنگے میں لپٹے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے جسد خاکی کو کندھوں پر اٹھایا اور اندر لے جایا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود رہی ہیں، جو کہ اں کے آخری سفر کے لیے نگم بودھ گھاٹ پہنچیں گے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موت سے قوم میں ایک افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ وہ ملک کے پہلے سکھ وزیر اعظم ہونے کے ناطے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کا 2004 سے 2014 تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہنا، ان کی کارکردگی اور معاشی اصلاحات کی بنا پر ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

سابق وزیر اعظم کی آخری رسومات کی تیاری

کانگریس رہنما راہل گاندھی خود منموہن سنگھ کے اہل خانہ کو کانگریس دفتر لے کر گئے۔ اس کے علاوہ ان کی بیٹی پرینکا گاندھی واڈرا بھی دفتر میں موجود ہیں اور دیگر اہم رہنما جیسے سونیا گاندھی، ملکارجن کھڑگے، اور پی چدمبرم بھی شریک ہیں۔ کانگریس پارٹی کے کارکنان اپنے مقبول رہنما کی آخری دیدار کے لیے بے تابی سے موجود ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف کانگریس بلکہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، کیونکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ملک نے اہم معاشی تبدیلیوں کا سامنا کیا۔ ان کی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے ملک نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا اور عالمی سطح پر ایک نئی پہچان بنائی۔

وداعی تقریب میں شامل اہم شخصیات

کانگریس دفتر میں، جہاں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری دیدار کا موقع فراہم کیا گیا ہے، وہاں پارٹی رہنما اور کارکنان اپنی محبت اور احترام کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک گھنٹہ تک یہ موقع موجود رہے گا، جس کے دوران لوگ ان کی یادوں اور خدمات کی قدردانی کر سکیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ، دوسرے سیاسی رہنماؤں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، جو اس اہم موقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خدمات کو کسی بھی جماعت سے بالا تر سمجھا جاتا ہے، اور ان کے فقدان پر ہر کوئی افسردہ ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا سیاسی سفر اور اثاثہ

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاسی زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن انہوں نے ہمیشہ ان چیلنجز کا سامنا کر کے ملک کو ایک نئی راہ دکھائی۔ ان کی اقتصادی پالیسیاں، جیسے کہ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے ساتھ مل کر کئے گئے اصلاحات، نے ملک کی معیشت کو مستحکم کیا اور عالمی سطح پر ایک نئی پہچان بنائی۔

آج کا یہ واقعہ نہ صرف کانگریس بلکہ پورے ملک کے لیے ایک غمگین لمحہ ہے۔ ان کی جانے سے خالی ہونے والی جگہ کو پر کرنا مشکل ہو گا۔

دکھ اور صدمہ کی لہر

اکثر لوگ اس موقع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ مان رہے ہیں کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان اور بھارت کے روابط میں بہتری آئی، اور ان کی کوششوں کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں ہر شعبہ سے لوگ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، جس میں ان کی اصلاحات اور عالمی سطح پر بھارت کی شراکت داری کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس

اس موقع پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کے متعدد رہنماں کو منموہن سنگھ کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے ایک خاص تقریب کا انعقاد بھی کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ اپنی پارٹی کے کارکناں اور عوام کے دلوں میں اپنی یادوں کو تازہ رکھ سکیں گے۔