موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خدمات پر عالمی رہنماؤں کا خراجِ عقیدت

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موت: عالمی رہنماؤں کی جانب سے خراجِ عقیدت

سابق ہندوستانی وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ 2004 سے 2014 تک ہندوستان کے وزیرِ اعظم رہے اور ان کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی سطح پر معیشت کے کئی اہم سنگ میل حاصل کیے۔ ان کی معلومات اور تجربہ نے ان کے دور حکومت میں ہندوستان کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کی انتقال کی خبر نے عالمی سطح پر ایک گہرے صدمے کا باعث بنی ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موت کے بعد سابق افغان صدر حامد کرزئی نے انہیں ایک سچا دوست اور ایک وفادار معاون قرار دیا اور اپنے پیغام میں لکھا، "ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال ہماری قوم کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔” ان کے علاوہ، ملاوی کے سابق صدر محمد نشید نے بھی اپنے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کا ذکر کیا اور انہیں ایک اچھا دوست اور دلسوز والد قرار دیا۔

روس کے سفیر ڈینس الیپوف نے ڈاکٹر سنگھ کے دور حکومت میں ہندوستان اور روس کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے ان کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ڈاکٹر سنگھ کی قیادت میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانا تعلقات کو ایک نئی جہت ملی۔”

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات نے نہ صرف ہندوستانی عوام کو بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کی حکومتی پالیسیوں نے ہندوستان کو عالمی اقتصادی منظرنامے میں ایک اہم مقام پر پہنچا دیا تھا۔ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے عالمی رہنما مختلف انداز میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی اقتصادی پالیسیوں کا اثر

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان نے 1991 کے اقتصادی اصلاحات کے بعد اپنی معیشت کو عالمی سطح پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دور حکومت میں کئی بڑی اقتصادی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا گیا جن کی بنیادی وجہ ہندوستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ ان کی حکمت عملیوں کی بدولت ہندوستان کی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہوا اور عالمی مارکیٹ میں ہندوستان کی حیثیت مضبوط ہوئی۔

ان کی نرم مزاجی اور دانشمندی کی بدولت ان کی خدمات کو عالمی معیار کے رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر سنگھ نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی خدمات کو عالمی رہنما یاد رکھیں گے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ، ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس دوران متعدد اہم فیصلے کئے جن کا اثر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ ان کی اقتصادی پالیسیوں نے ہندوستان کی معیشت کو نئی زندگی بخشی اور عالمی بحران کے باوجود ملک کو مستحکم رکھے رکھا۔

عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ افسوس

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر کئی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا، "ڈاکٹر سنگھ کی قیادت میں افغانستان-ہندوستان تعلقات میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ ان کی وفات کا غم ہمارے دلوں میں ہے۔”

اسی طرح، ملاوی کے سابق صدر نے کہا، "ڈاکٹر سنگھ میرے لئے ہمیشہ ایک مشیر اور دوست کی طرح رہے۔ ان کی محبت اور حمایت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔”

روس کے سفیر نے مزید کہا کہ "ڈاکٹر سنگھ کے انتقال سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا نے ایک عظیم رہنما کھو دیا ہے۔ ان کے نظریات اور اصول ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔”

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کو عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی خدمات نے کئی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں نئے امکانات کو کھولا۔ ان کی قیادت میں ہونے والی ترقیات آج بھی مستند ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں تحریر

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی پیدائش 26 ستمبر 1932 کو پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور بعد میں ہندوستان منتقل ہو گئے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد، وہ جلد ہی ایک ماہر اقتصادیات کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی حکومتی خدمات میں کئی اہم عہدے شامل رہے، جن میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے ان کا کردار خاص طور پر نمایاں تھا۔

ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ عوام کی خدمت میں گزرا، اور وہ ہمیشہ عوامی بہبود کے لئے کام کرتے رہے۔ ان کے دور حکومت میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے جو عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے اہم ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا گیا، جہاں کئی ممالک نے ان کی حکمت عملیوں کی پیروی کی اور ان کے نظریات کو اپنایا۔ ان کی انتقال کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف ممالک کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اپنے اعلیٰ معیار کے رہنما کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی وفات نے ہمیں یہ سبق دیا کہ قیادت صرف عہدے کی بات نہیں ہوتی، بلکہ یہ عوام کے دلوں میں بستی ہے۔