سوربھ شرما کی کہانی: ایک سپاہی کی غیر قانونی دولت کی داستان
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں، ایک سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کی غیر قانونی دولت کا انکشاف ہوا ہے۔ لوکایکت کی جانب سے کی گئی چھاپہ ماری کے دوران، سوربھ کے گھر اور دفتر سے حیرت انگیز مقدار میں سونا، چاندی اور نقد رقم برآمد ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کیسے ایک معمولی سرکاری ملازم نے اپنی زندگی میں شاندار دولت جمع کر لی۔
اس واقعے کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ سوربھ شرما کو سونے اور چاندی کا جنون تھا، جس کے تحت اس نے اپنی نقد رقم کو ان قیمتی دھاتوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ اقدام اس نے اس خوف سے اٹھایا کہ نقدی کو طویل عرصے تک رکھنے پر خراب ہونے یا چوہوں کے نقصان کا خدشہ موجود تھا۔ اس نے سونے اور چاندی کی اینٹیں بنوا کر میکنگ چارجز سے بھی بچنے کی کوشش کی۔
یہ چھاپہ ماری 18 اور 19 دسمبر کو کی گئی، جس میں 7.98 کروڑ روپے کی جائیداد برآمد ہوئی، جس میں 2.87 کروڑ روپے نقد اور 234 کلو چاندی شامل رہی۔ اس کے علاوہ، لوکایکت کے ڈی جی جے دیپ پرساد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سوربھ شرما نے بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقم سے نہ صرف سونا اور چاندی خریدا بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے نام پر اسکول اور ہوٹل بھی قائم کیے۔
بھوپال کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کیس نے عوامی انتظامیہ کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے لیے لوکایکت کی جانچ جاری ہے اور مزید انکشافات کا امکان ہے۔
کیوں ہوا یہ انکشاف؟
سوربھ شرما کی دولت کے انکشاف کا آغاز اس وقت ہوا جب لوکایکت نے بدعنوانی کی ایک اور کیس میں تحقیقات شروع کیں۔ اس کے بعد، سوربھ شرما کی زندگی کے کئی پہلو سامنے آئے۔ وہ ایک عام سپاہی تھا، لیکن اپنی زندگی میں بڑی تبدیلیاں لے آیا۔
وہ عام طور پر اپنے قریبی ساتھیوں، جیسے چیتن سنگھ گوڑ اور شرد جیسوال کے ذریعے بھی غیر قانونی طریقوں سے دولت جمع کرتا رہا۔ ان ساتھیوں کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے، جہاں سے بڑی مقدار میں نقدی، سونا، اور زمین کے کاغذات برآمد کیے گئے۔
کیسے ہوا یہ سب کچھ؟
یہ معاملہ اس طرح مزید پیچیدہ ہوتا گیا کہ سوربھ نے اپنے غیر قانونی اثاثوں کو چھپانے کے لیے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے نام مختلف کاروبار قائم کیے۔ ان میں اسکول اور ہوٹل شامل ہیں، تاکہ وہ اپنی دولت کو قانونی شکل دے سکے۔
حکام نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ سوربھ شرما کی دولت صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ اس کے قریبی ساتھیوں کی بھی شامل ہے۔ اس نے منظم طریقے سے اپنی دولت کو ڈھونڈا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے خلاف قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔
اب کیا ہوگا؟
اس کیس کے بعد لوکایکت نے اپنی تحقیقات کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید جائیدادوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سوربھ شرما اور اس کے ساتھیوں کے دوسرے اثاثوں کا پتا لگانے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
جیسا کہ حکام کا کہنا ہے، اس کیس نے نہ صرف سوربھ کی زندگی بلکہ اس کی ملازمت کی ساکھ کو بھی چیلنج کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی عوامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان جیسے معاملات کی روک تھام کی جائے۔

