دہلی کے عوامی منصوبوں پر شُدّت سے سوالات اور کیجریوال کی جانب سے وضاحت
دہلی میں حالیہ دنوں میں سنجیونی اور مہیلا سمان یوجنا کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے نے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دہلی حکومت کی صحت اور خواتین و اطفال ترقی (ڈبلیو سی ڈی) محکموں کی جانب سے جاری کردہ عوامی نوٹسوں نے عوام کو مشوش کر دیا ہے۔ ان نوٹس کے مطابق، سنجیونی اور مہیلا سمان یوجنا کے حوالے سے ہونے والے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
کون؟ کیا؟ کہاں؟ کب؟ کیوں؟ کیسے؟
اس دوران، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر اس مسئلے پر شدید رد عمل پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ بوکھلا گئے ہیں!” اور یہ کہ ان کے سینئر رہنماؤں کے خلاف چھاپے مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح، بی جے پی نے ان منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ صرف انتخابی دھوکہ دہی ہیں۔ یہ نوٹسز دہلی کے صحت اور خواتین و اطفال ترقی محکموں کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جہاں یہ کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
یہ تنازعہ دہلی میں انتخابات کے قریب آتے ہی شروع ہوا، جس کی وجہ عوامی منصوبوں کی نوعیت اور وعدوں کی حقیقت ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس وقت کیجریوال اور ان کی جماعت عوامی خدمت کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دہلی حکومت نے سنجیونی منصوبے کے تحت 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت علاج فراہم کرنے کا دعویٰ کیا، جو کہ صحت کے محکمے کے مطابق حقیقت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خواتین و اطفال ترقی کے محکمہ نے مہیلا سمان یوجنا کے تحت مالی فوائد کی تفصیلات کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کیجریوال کی طرف سے پریس کانفرنس کی پیشکش
کیجریوال نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ دوپہر 12 بجے اس مسئلے پر پریس کانفرنس کریں گے، جس میں وہ ان منصوبوں کی وضاحت کریں گے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں گے۔ یہ پریس کانفرنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کیجریوال اس وقت اپنی حکومت کی ساکھ کو بچانے کے لئے سرگرم ہیں۔
دوسری جانب، عام آدمی پارٹی نے پہلے ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس منصوبے کی رجسٹریشن ڈرائیو میں شامل رضاکار کام کر رہے ہیں، جو عوامی خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں۔
سیاسی تناؤ اور عوام کی تشویش
چونکہ انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر تنقید کر رہی ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے کی جانے والی تنقیدوں نے کیجریوال کو مزید مشتعل کر دیا ہے۔ کیجریوال کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ عوام کو گمراہ کیا جائے اور ان کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ منصوبے عوام کی خدمت کے لئے ہیں تو اس میں اتنی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ اس تناظر میں بی جے پی نے عوامی نوٹس کے ذریعے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ تمام منصوبے محض ایک سیاسی چال ہیں۔
سائبر دھوکہ دہی کا خطرہ
محکمہ صحت اور خواتین و اطفال ترقی کے جاری کردہ نوٹسز نے عوام کو یہ بھی بتایا ہے کہ ایسے منصوبوں سے سائبر دھوکہ دہی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ذاتی معلومات جیسے آدھار اور بینک تفصیلات کو کسی کے ساتھ نہ شیئر کریں، کیونکہ یہ دھوکہ دہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ انتباہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ حکومت کو عوام کی حفاظت کی خاطر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

