خوفناک حادثہ: پورنیہ میں ایک شرابی نے بے گناہوں کی جانیں لیں
بہار کے پورنیہ ضلع کے ڈوکوا گاؤں میں ایک سنکی نوجوان کی شراب کی حالت میں بے رحمی سے لوگوں کو کچلنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس خوفناک حادثے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 8 دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کی رات 9:30 بجے پیش آیا جب مذکورہ نوجوان اپنی پک اَپ وین چلا رہا تھا۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہے اور انہیں فوری علاج کے لیے مایا گنج منتقل کیا گیا ہے۔
اس واقعے کی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان نشے کی حالت میں تھا اور ایک معمولی تنازعہ نے اس کے حواس باختہ کرنے کی بنیاد فراہم کی۔ نوجوان، جو ارون کے نام سے جانا جاتا ہے، گاؤں کے کچھ لوگوں کی جانب سے شراب نوشی پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد غصے میں آگیا۔ اس نے اپنے گھر جا کر پک اَپ وین اسٹارٹ کی اور پھر سڑک کے کنارے جو بھی ملا، اسے کچلنے لگا۔ کسی بچے، بزرگ یا عورت کو بھی اس نے نہیں بخشا۔
تازہ ترین معلومات: 5 ہلاک، 8 زخمی
ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں جیوتش ٹھاکر (60)، سنجیتا دیوی (50)، منیشا کماری (13)، اکھلیش منی (13) اور امردیپ (6) شامل ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے ایک صدمہ ہے بلکہ پورے علاقے میں خوف کی لہر پیدا کر رہا ہے۔ متاثرہ افراد میں سے ایک درجن سے زائد لوگ اس خوفناک حادثے کی چپیٹ میں آئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں عوام کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ شراب نوشی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ گاؤں کے لوگ اس بات پر بھی احتجاج کر رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔
بہار میں شراب پر پابندی کی ضرورت
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہار میں شراب پر پابندی کے باوجود اس کے اثرات کم نہیں ہوئے ہیں۔ متعدد محققین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شراب کی عادت ایک بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو نہ صرف فرد کی زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے۔
اس معاملے کی جانچ کر رہی پولیس نے ارون کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانونی پابندیاں ہیں، لیکن اس کے باوجود شراب کی فروخت جاری ہے، جس کے نتیجے میں ایسے حادثات پیش آ رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا دلخراش تجربہ
مقامی لوگوں کے مطابق، یہ واقعہ پورے علاقے کی جانچ پڑتال کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ لوگ اس واقعے کے بعد خوفزدہ ہیں اور اپنے بچوں کے محفوظ ہونے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔ گاؤں کے لوگ اپنی شناخت اور زندگی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
کئی متاثرین کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ شراب پر پابندی کے قوانین کو مزید سخت بنائے۔
انتظامیہ کی جانب سے حکمت عملی
اس واقعے کے بعد، مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، گاؤں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ پورے علاقے کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا رہے گا۔ معاشرے کے ہر طبقے کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہمیں اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے ایک ساتھ آنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، حکومتیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں کوتاہی نہ برتیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

