موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وقف بورڈ سے متعلق بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گئے، اسپیکر برلا کمیٹی تشکیل دیں گے

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل اور دی مسلم وقف ایکٹ (منسوخی) کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کی تجویز دی ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے وقف (ترمیمی) بل 2024 پر حکومت نے مزید جانچ کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وقف ترمیمی بل پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کے جواب میں، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اراکین کو کسی مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مختلف مذاہب کے افراد کو وقف بورڈ میں شامل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کرن رجیجو نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اس بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے، جس پر اسپیکر نے یقین دلایا کہ جلد کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

اسد الدین اویسی نے بل کو الگ الگ کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ اسپیکر نے پوچھا کہ اس پر ڈویژن کس طرح بنتی ہے؟ اویسی نے جواب دیا کہ ہم شروع سے ہی ڈویژن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کرن رجیجو نے مزید کہا کہ وقف ایکٹ 1923 پورے ملک میں نافذ ہوا تھا، جس میں بلوچستان اور سنتھل پرگنہ بھی شامل ہیں، اس لیے یہ اصولی کتاب میں نہیں رہنا چاہیے۔ امت شاہ نے وضاحت کی کہ 1955 کے بل اور 2013 کی ترمیم کے بعد اس کا کوئی عملی وجود نہیں ہے اور ہم اسے کاغذ سے نکال رہے ہیں۔ اپوزیشن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔