موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’بی جے پی چاہتی ہے ہر فیصلہ دہلی میں ہو لیکن ہم اس کے خلاف‘، میزورم میں راہل گاندھی کا بیان

کانگریس رکن پارلیمنٹ اس وقت میزورم میں ہیں۔ وہ مختلف تقاریب اور پریس کانفرنس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ میزورم کی ریاستی پارٹیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بیشتر بی جے پی لیڈروں کے بچوں کو نسل پرست ٹھہرایا۔ انھوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ ’’امت شاہ، راج ناتھ سنگھ جیسے تمام بی جے پی لیڈروں کے بچے کیا کر رہے ہیں؟ آخری بار سنا تھا کہ امت شاہ کا بیٹا ہندوستانی کرکٹ چلا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ میزورم کے لوگوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ صاف لفظوں میں بتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے پاس ایک پروگرام ہے، ایک ریکارڈ ہے۔ باقی دونوں پارٹیاں زیڈ پی ایم اور ایم این ایف تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ریاست میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جب ہم ثقافت، مذہب پر حملے کی بات کرتے ہیں تو اس حملے کے ذرائع بی جے پی-آر ایس ایس اور وہ پارٹیاں ہیں جو انھیں ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد ملک کے 60 فیصد حصے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اتحاد اپنے اقدار، آئینی ڈھانچے اور آزادی کی حفاظت کر کے ہندوستانی نظریات کی دفاع کرے گا۔ انھوں نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو مقامی تہذیب و نظریات کی بنیاد کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’ڈی سنٹرلائزیشن‘ میں یقین کرتے ہیں، جبکہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ سبھی فیصلے دہلی میں ہونے چاہئیں۔ دوسری طرف آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر ایک نظریہ اور تنظیم کی حکومت ہونی چاہیے۔ اس کی ہم شدید مخالفت کرتے ہیں۔