موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نوح تشدد: گئو رکشک مونو مانیسر کی درخواست ضمانت منظور

گروگرام: ہریانہ کی نوح ضلع عدالت نے پیر کو خود ساختہ گئو رکشک موہت یادو عرف مونو مانیسر کو ریاست میں 31 جولائی کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ایک معاملے میں ضمانت دے دی۔ نوح فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ امت کمار ورما کی عدالت نے ضمانت منظور کی۔

مونو مانیسر نے وکیل نے کہا ’’مونو مانیسر کو ضمانت مل گئی ہے اور اس نے ایک لاکھ روپے کا بانڈ پیش کر دیا۔‘‘ خیال رہے کہ 30 سالہ مونو مانیسر راجستھان میں ناصر جنید قتل کیس اور گروگرام کے پٹودی میں قتل کی کوشش کیس کا بھی ملزم ہے، ان دونوں معاملات میں ضمانت ملنے تک وہ جیل میں ہی رہے گا۔

مانیسر کو نوح پولیس نے 12 ستمبر کو گرفتار کیا تھا اور اسی دن راجستھان پولیس نے ناصر جنید قتل کیس میں اسے ٹرانزٹ ریمانڈ پر لے لیا تھا۔ اسے ہریانہ پولیس 7 اکتوبر کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر واپس لائی اور وہ فی الحال گروگرام کی بھونڈی جیل میں قید ہے۔

ہریانہ کے نوح ضلع میں 31 جولائی کو فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوا اور گروگرام، سوہنا اور ریاست کے دیگر اضلاع تک پھیل گیا، جو کئی دنوں تک جاری رہا۔ تشدد میں کم از کم چھ افراد ہلاک جب کہ 200 دیگر زخمی ہوئے۔