موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

فلسطینی سفارتخانہ پہنچے منی شنکر ایر، دانش علی اور منوج جھا سمیت کئی لیڈران، متاثرین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ

اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ دس دنوں سے جاری جنگ کے درمیان فلسطینی عوام کے تئیں ہمدردی کا اظہار دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایر، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، جنتا دل یو لیڈر کے سی تیاگی، بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی اور آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا سمیت کئی لیڈران فلسطین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لیے نئی دہلی واقع فلسطینی سفارتخانہ پہنچے۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہاں اتحاد اور فکر ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو۔‘‘ فلسطینی سفیر کے ساتھ میٹنگ کے بعد کے سی تیاگی اور منی شنکر ایر سمیت کئی اپوزیشن لیڈران نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔

دراصل فلسطینی تنظیم حماس نے 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل پر راکیٹ سے حملہ کیا تھا۔ اس دوران دراندازی بھی ہوئی تھی۔ پھر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ’’اس جنگ میں ہماری جیت ہوگی۔‘‘ اب اسرائیل رہ رہ کر غزہ پر ہوائی حملے کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں 199 لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ یہ تعداد پرانے اندازوں سے زیادہ ہے۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق دونوں طرف سے اب تک 4000 سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حماس کے قلعہ غزہ پٹی میں تقریباً 23 لاکھ لوگ رہتے ہیں جہاں پوری طرح سے گھیرابندی کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ جاری جنگ کے چلتے اسرائیل نے غزہ پٹی میں کھانا، پانی اور ایندھن کی فراہمی بند کر دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کے روز کہا کہ علاقہ کی مکمل طور سے گھیرا بندی کی جائے گی۔