موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مہاراشٹر کے وزیر چھگن بھجبل کو جان سے مارنے کی دھمکی، پولیس نے شروع کیں تحقیقات

ممبئی: مہاراشٹر کی ایکناتھ شندے حکومت میں خوراک اور عوامی ترسیل کے وزیر چھگن بھجبل کو ان کے ذاتی نمبر سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ایک نامعلوم فون نمبر سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے تھانے میں شکایت درج کرائی گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے دھمکی دینے والے شخص کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں بغاوت کرنے والے اجیت پوار دھڑے کے لیڈر بھجبل کے پیغامات موصول ہوئے تھے۔ دھمکی میں لکھا تھا، ’’آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے۔ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب آپ کو ختم نہ کر دیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ہوشیار رہیں، ہم آپ کو دیکھ لیں گے۔‘‘

اس دھمکی آمیز پیغام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ناسک این سی پی کے نوجوان لیڈر امباداس جے کھیرے نے امباڈ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے، جس کے بعد پولیس نے وزیر کو دھمکی دینے والے شخص کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس دھمکی بھیجنے والے نمبر کو ٹریس کر رہی ہے۔

اس دوران پارٹی ذرائع نے بتایا کہ مقبول او بی سی لیڈر چھگن بھجبل گزشتہ چند دنوں میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے ریاست میں جاری تحریک کے بارے میں کچھ سخت خیالات کا اظہار کرنے کے لیے اچانک سرخیوں میں آئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ طبقے ان سے ناراض ہیں۔ ممکن ہے جان سے مارنے کی دھمکیاں اسی سے متعلق ہوں۔