موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’عدالتی حکم کو نظر انداز نہ کریں‘، سپریم کورٹ مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر سے ناراض

سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر کو شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ایک بار پھر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ دراصل شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی طرف سے داخل عرضیوں میں مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو کچھ اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلیت کی کارروائی پر فوری فیصلہ صادر کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ کسی کو مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر کو مشورہ دینا ہوگا کہ وہ عدالت کے حکم کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ ایسے عدالت کی ہدایت کو خارج نہیں کر سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گزشتہ بار ہم نے سوچا تھا کہ بہتر تال میل قائم ہوگا۔ شیڈیول کا نظریہ سماعت کو غیر یقینی مدت تک زیر التوا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکر کو اس چیز کا احساس کرانا چاہیے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جون کے بعد سے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ انھیں کوئی دکھاوا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ سماعت ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ مناسب وقت-ٹیبل مقرر وقت پر نہیں ملتا ہے تو وہ ایک مدت کار معین کرنے والا لازمی حکم جاری کرے گا، کیونکہ اس کے حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر کو کم از کم اگلے انتخاب سے پہلے اراکین اسمبلی کی نااہلیت پر فیصلہ لینا چاہیے۔