موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی شراب پالیسی: سنجے سنگھ کو 27 اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیجا گیا

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں 27 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دریں اثنا، چونکہ سنگھ ذیابیطس کا مریض ہے، اس لیے دوائیوں کے لیے الگ درخواست دائر کی گئی ہے۔

عدالت نے 10 اکتوبر کو دہلی شراب پالیسی معاملے میں گرفتار سنجے سنگھ کی ای ڈی کی تحویل میں 13 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ دراصل ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

اس پورے معاملے میں سنجے سنگھ نے اپنی گرفتاری کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ سنگھ کے وکیل نے چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سنجیو نرولا کی بنچ سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی نے انہیں گرفتاری کے لیے مناسب بنیاد نہیں دی ہے۔

ای ڈی نے عآپ لیڈر سنجے سنگھ کو (4 اکتوبر) کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر کئی گھنٹے کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن یعنی 5 اکتوبر کو راؤز ایونیو کورٹ نے انہیں پانچ دنوں کے لیے ای ڈی کی تحویل میں بھیج دیا۔ اس دوران مرکزی تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر کچھ ڈیلرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے رشوت لی گئی تھی۔

دہلی شراب پالیسی کیس میں اس سے قبل عآپ لیڈر اور سابق وزیر ستیندر جین اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔