موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسرائیل حماس جنگ کے درمیان جمعہ کو دہلی ہائی الرٹ پر، سکیورٹی بڑھا دی گئی

نئی دہلی: فلسطین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان راجدھانی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ دہلی میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کی نماز کے دوران دہلی پولیس کے اہلکار بھاری نفری کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہیں گے۔ یہودی مذہبی اداروں اور اسرائیلی سفارتخانے پر بھی سخت سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملنے والے ان پٹ کی بنیاد پر سیکورٹی بڑھائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

دراصل، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی اس جنگ پر ہندوستان کے لوگوں کی مختلف رائے ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں اور کچھ لوگ فلسطین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جمعہ کو مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر ہندوستان میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

دہلی این سی آر کے علاوہ تلنگانہ، کیرالہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، تمل ناڈو، جموں و کشمیر اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بھی سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی تنظیموں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہیں اور ملک میں بھائی چارے کو بھی ٹھیس پہنچا سکتی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کے احتجاج کی اجازت ہوگی۔