موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

منی پور حکومت نے موبائل انٹرنیٹ پر پابندی میں توسیع کی

منی پور حکومت نے موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی کو اگلے پانچ دنوں یعنی 16 اکتوبر تک بڑھا دیا۔ ریاست کے چورا چاند پور میں 3 مئی کو تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد منی پور حکومت نے انٹرنیٹ خدمات پر پابندی لگا دی تھی۔

منی پور میں گورنر، گورنر سکریٹریٹ، وزراء، ایم ایل اے، فوج، سکیورٹی اہلکاروں، پولس اور سرکاری افسران کو الگ الگ احکامات جاری کرکے موبائل انٹرنیٹ خدمات فراہم کی گئیں۔ میڈیا اور عام لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کی پابندیاں اب بھی جاری ہیں۔

داخلہ کمشنر ٹی رنجیت سنگھ نے بدھ کے روز جاری کردہ حکم نامہ میں کہا کہ منی پور کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس کے مطابق تشدد جیسے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ عوامی تصادم، منتخب اراکین کی رہائش گاہوں پر ہجوم کی کوششیں، تھانوں کے سامنے شہری احتجاج وغیرہ کی اب بھی اطلاع دی جا رہی ہے.

آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ کچھ سماج دشمن عناصر عوامی جذبات کو بھڑکانے والی تصویریں، نفرت انگیز تقاریر اور ویڈیو پیغامات نشر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کا استعمال کر سکتے ہیں، جس سے منی پور میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

آرڈر میں کہا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے، ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر کے منصوبوں اور سرگرمیوں کو ناکام بنانے، امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور سرکاری/نجی املاک کو کسی بھی قسم کے نقصان یا خطرے کو روکنے کے لیے، عوامی مفاد میں، یہ خاطر خواہ اقدام کرنا ضروری ہو گیا ہے۔