موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ نے وقت کی کمی کے باعث عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کر دی

نئی دہلی. سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں جے این یو کے سابق اسکالر اور کارکن عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات کو ملتوی کر دی۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، وقت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس بیلا ترویدی اور دیپانکر دتہ کی بنچ نے سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ عمر خالد نے گزشتہ سال ضمانت مسترد کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی ہے۔ خالد کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ وہ 20 منٹ میں دکھا سکتے ہیں کہ خالد کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں نہیں بنتا۔

کپل سبل نے عدالت سے جمعرات کو سماعت پر غور کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، ’’وہ ایک نوجوان طالب علم ہے، پی ایچ ڈی ہولڈر ہے، تین سالوں سے سلاخوں کے پیچھے ہے، یہ ہو رہا ہے۔‘‘

دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو نے کہا کہ ملزمان کی طرف سے عبوری درخواستیں داخل کرنے کی وجہ سے مقدمے کی سماعت میں تاخیر ہوئی۔ وہ الزامات عائد کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

سبل نے جواب میں کہا کہ کیس میں پانچ ضمنی چارج شیٹ داخل کی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس میں تین شریک ملزمان نتاشا ناروال، دیونگانا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو ضمانت مل گئی ہے۔

خالد دہلی فسادات کیس میں تین سال سے زیادہ عرصے سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔ انہیں بڑی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے لیے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت الزامات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فروری 2020 میں دہلی فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔