موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

تنقید برداشت کی جا سکتی ہے لیکن عدالتی امور میں رخنہ اندازی نہیں: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ نکتہ چینی سے ناراض نہیں ہے اور جائز اور منصفانہ تنقید کی جا سکتی ہے لیکن عدالت یا عدالتی نظام کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کی جائے گی۔

جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس انیش دیال کی ایک ڈویژن بنچ توہین عدالت کے کچھ ملزمان کے خلاف شروع کیے گئے از خود فوجداری کیس کی سماعت کر رہی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت سے متعلق ہے جب 2018 میں جسٹس ایس مرلیدھر کے خلاف ٹویٹس پوسٹ کیے گئے تھے۔

بنچ نے کہا، "ہم معقول اور منصفانہ تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جس چیز کی تعریف نہیں کی جا سکتی وہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے عدالت کی شان میں کمی آتی ہے لیکن ہم عدالت اور نظام کے کام میں رخنہ اندازی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نکتہ چینی کیے جانے سے ناراض نہیں ہیں لیکن جب نظام میں رخنہ اندازی ہوتی ہے تو ہمیں بہت فکر ہوتی ہے۔‘‘

ایڈوکیٹ جے سائی دیپک، مصنف آنند رنگناتھن کی طرف سے پیش ہوئے، جو کہ ملزمان میں سے ایک ہیں، نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں انہوں نے اپنا موقف واضح کیا ہے کہ ان کا بیان کیس کے مخصوص حقائق پر تبصرہ نہیں ہے، بلکہ عام نوعیت کا ہے۔ انہوں نے عدالت میں مزید کہا کہ اس معاملے میں غیر مشروط معافی مانگنا توہین عدالت کی کارروائی میں الزامات کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیس کی سماعت کے بعد بنچ نے اسے 9 نومبر کو اگلی سماعت کے لیے لسٹ کر دیا۔