موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

متھرا شاہی عیدگاہ والی جگہ کو ’کرشن جنم بھومی‘ قرار دینے کے مطالبہ والی عرضی ہائی کورٹ سے خارج

متھرا شاہی عیدگاہ والی جگہ کو کرشن جنم بھومی قرار دینے کے مطالبہ والی عرضی کو آج الٰہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا۔ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اس مفاد عامہ عرضی کو خارج کیا جس میں شاہی عیدگاہ مسجد واقع جگہ کو کرشن جنم بھومی ماننے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ حکم چیف جسٹس پریتنکر دیواکر اور جسٹس آشوتوش شریواستو کی ڈویژنل بنچ نے مہک مہیشوری کی عرضی پر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ستمبر ماہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور آج اس فیصلے کو سنایا گیا۔ یہ مفاد عامہ عرضی 2020 میں سپریم کورٹ کے وکیل مہک مہیشوری نے داخل کی تھی۔ عدالت نے مقدمہ کا نمٹارہ ہونے تک متنازعہ احاطہ میں ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ہندو فریق کی طرف سے داخل کردہ مفاد عامہ عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متنازعہ احاطہ میں پہلے وہاں پر مندر ہوا کرتا تھا، جسے توڑ کر شاہی عیدگاہ مسجد کی تعمیر کرائی گئی تھی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ جس جگہ پر ابھی مسجد ہے، وہاں پر ’دواپر‘ دور میں کنس کی جیل ہوتی تھی جہاں کنس نے بھگوان شری کرشن کے والدین کو قید رکھا ہوا تھا اور اسی جیل میں بھگوان شری کرشن کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس لیے بھگوان کا اصل جنم استھان وہی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشیں کرنے والی ہے کہ سماعت کے دوران وکیل کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار یہ عرضی پہلے بھی خارج ہو چکی ہے۔ یہ مفاد عامہ عرضی 19 جنوری 2021 کو خارج ہو گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے مارچ 2022 میں اس مفاد عامہ عرضی کو ری-اسٹور کر لیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اسے سماعت کے لیے دوبارہ پیش کیے جانے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد اس پر سماعت کا عمل شروع ہوا تھا۔