موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

عدالتی سماعتوں کو ورچوئل کرنے کی تیاری، سپریم کورٹ نے انفارمیشن کمیشن سے مانگا جواب

سپریم کورٹ نے پیر کے روز سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشنز سے عرضی گزاروں کو سماعت کے لیے ہائبرڈ متبادل مہیا کرانے کو لے کر جواب مانگا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے ملک کی سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ عرضی گزاروں کے لیے شکایتوں کی ای-فائلنگ اور سماعت کی سہولت دیں۔

چیف جسٹس کی صدارت اور جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی رکنیت والی بنچ نے کہا کہ سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشن کو سماعت کے ہائبرڈ متبادل کے بارے میں جانکاری دینی چاہیے۔ عدالت نے مانا کہ تکنیک کی مدد سے انصاف پانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔ اس کا کہنا ہے کہ انفارمیشن کمیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ سبھی عرضی گزاروں کے لیے سلسلہ وار طریقے سے ای-فائلنگ کی سہولت یقینی بنانی چاہیے۔

یہ تبصرہ سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران کیا ہے۔ اس عرضی میں ریاستی انفارمیشن کمیشنز کی بہتر کارکردگی کے لیے کچھ اہم ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عرضی گزاروں کو فزیکل (جسمانی طور پر) کے ساتھ ہی ورچوئل طریقے سے بھی سماعت کا متبادل دیا جانا چاہیے۔