موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مہاراشٹر میں بھی ذات کے سروے کا مطالبہ؟ سماج کا ہر طبقہ اس کے حق میں ہے: سنجے راؤت

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ذات پات پر مبنی سروے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا ممبر سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سماج کا ہر طبقہ اور اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ اس کے حق میں ہے۔ بہار کی نتیش کمار حکومت نے حال ہی میں اپنے ذات پات پر مبنی سروے کے نتائج کا اعلان کیا تھا، جس میں پتا چلا ہے کہ ریاست کے 84 فیصد لوگ دیگر پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔

راؤت نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’بہار میں ذات پات پر مبنی سروے کیا گیا تھا۔ راجستھان میں بھی ایسا ہی ہوگا اور مہاراشٹر میں بھی اس کی مانگ ہے۔ ذات پات پر مبنی سروے وقت کی ضرورت ہے اور سماج کے تمام طبقات کے ساتھ ساتھ ‘انڈیا’ اتحاد اس کے حق میں ہیں۔

بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے علاقائی پارٹیوں پر تنقید کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر راؤت نے کہا، "این ڈی اے کیسے بنا؟ تمام جماعتیں علاقائی ہیں۔ بی جے پی بھی کچھ وقت میں علاقائی پارٹی بن جائے گی۔ 12 ریاستیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں قومی سیاست علاقائی جماعتوں کے زور پر چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ نڈا کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) ایسی جماعتوں کے تعاون سے تشکیل دیا گیا تھا۔