موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گگن یان مشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں، اسرو نے تصاویر کیں شیئر

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) خلاء میں انسانی مشن بھیجنے کے لیے زور و شور سے تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کو گگن یان کا نام دیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخر میں تحقیق کے لیے تیار کیے گئے خلائی جہاز (گگن یان) سے خلابازوں کو نکالنے کے لیے ‘کریو ایسکیپ سسٹم’ کی جانچ کرے گا۔ اسرو نے ایکس پر اس سے متعلق کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور ساتھ ہی کہا ہے کہ تیاریاں آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسرو کا ایک خاص مشن ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان انسانی مشن کو خلا میں بھیجنے کے دیرینہ خواب کو پورا کر سکتا ہے۔ وکرم سارابھائی اسپیس سینٹر (وی ایس ایس سی) کے ڈائریکٹر ایس انی کرشنن نائر نے کہا، ’’تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ خلائی جہاز کے نظام کے تمام پرزے لانچ کے لیے سری ہری کوٹہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کو جمع کرنے کا کام جاری ہے۔ ہم اکتوبر کے مہینے میں اسے لانچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

وی ایس ایس سی خلائی محکمہ کے تحت اسرو کا بڑا مرکز ہے اور یہ ترواننت پورم میں واقع ہے۔ نائر نے کہا، "اس کرو ایسکیپ سسٹم کے ساتھ ہم ہائی پریشر اور ٹرانسونک سچوایشن جیسے مختلف حالات کی جانچ کریں گے۔‘‘

اسرو کے عہدیدار نے کہا کہ کریو ایسکپ سسٹم (سی ای ایس) گگن یان کا ایک اہم عنصر ہے۔ اسرو حکام کے مطابق اس ماہ ٹیسٹ وہیکل ٹی وی- ڈی ون کا تجربہ کیا جائے گا، جو کہ گگن یان پروگرام کے تحت چار ٹیسٹ مشنوں میں سے ایک ہے، اس کے بعد دوسری آزمائشی گاڑی ٹی وی-ڈی ٹو اور پہلے بغیر پائلٹ گگن یان (ایم ایم ویی تھر-جی ون) کا تجربہ کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے کے تحت ٹیسٹ وہیکل مشن (ٹی ویی-ڈی تھری اور ڈی فور) اور ایل ایم ویی تھری-جی ٹو کو روبوٹک پے لوڈ کے ساتھ بھیجنے کا منصوبہ ہے۔