موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

فیروز آباد میں وائرل و دیگر بیماریوں کی وباءمیں اضافہ

اتر پردیش کے فیروز آباد ضلع میں آج کل وائرل بخار اور ڈینگو کے علاوہ مختلف قسم کی بیماریوں کا پھیلاؤ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کے لیے بستروں کی کمی ہے۔

ضلعی اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن سنگین مریضوں کو داخل کرنے کے لیے بستروں کی کمی ہے جب کہ اسپتال کے احاطے میں نئی تعمیر ہونے والی 150 بستروں پر مشتمل عمارت سفید ہاتھی ثابت ہو رہی ہے۔

ضلع میں وائرل بخار ڈینگی مکمل طور پر پھیل چکا ہے۔ دیہی علاقوں کی حالت بہت خراب ہے۔ متاثرہ مریض ضلع اسپتال کی طرف بھاگ رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ زیادہ تر مریضوں کو او پی ڈی میں بیٹھے ڈاکٹروں کی طرف سے دوائیں لکھ کر گھر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ مذکورہ امراض میں مبتلا مریضوں کو سرکاری ٹروما سنٹر بھیجا جاتا ہے جہاں ڈاکٹر ان کو داخل کر کے علاج شروع کر دیتے ہیں۔

لوگوں کو ضلع اسپتال کے وارڈز میں داخل ہونے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ آن لائن سسٹم کے ذریعے بستروں کی خالی جگہ کی اطلاع ٹروما سینٹر کو دی جاتی ہے اور پھر مریضوں کو ضلع اسپتال کے وارڈوں میں بھیجا جاتا ہے۔ ضلع اسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ضلع اسپتال میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بستروں کی کمی کے درمیان ضلع اسپتال کے احاطے میں ہی بنائے گئے 150 بستروں کے کام نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔