موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نچلی عدالتوں میں مردوں کے مقابلے خواتین ججوں کی زیادہ تقرری: سی جے آئی چندرچوڑ

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں نچلی عدالتوں میں خواتین ججوں کی تقرری میں اضافہ ہوا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ ایسا کسی ایک ریاست میں نہیں بلکہ ملک بھر میں ہو رہا ہے۔

مہاراشٹرا کی مثال دیتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ وہاں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نچلی عدالتوں میں مرد ججوں کے مقابلے زیادہ خواتین ججوں کی تقرری ہو رہی ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ کہ تمام ریاستوں میں خواتین ججوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جس وقت چیف جسٹس نے بیان دیا تو مہاراشٹر کے کل 75 جج کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ یہاں پچھلی قطار میں مہاراشٹر کے 75 سول جج (جونیئر ڈویژن) تھے، جن میں سےے 42 خواتین اور 33 مرد ہیں۔ ضلعی ججوں کے لیے 5 براہ راست بھرتیوں میں سے 2 خواتین اور 3 مرد تھے۔

اپریل میں جاری ہونے والی انڈیا جسٹس رپورٹ 2022 کے مطابق ماتحت عدالتوں میں خواتین ججوں کی تعداد قومی اوسط کا 35 فیصد ہے، پانچ ریاستوں میں 50 فیصد سے زیادہ خواتین عدالتی افسران ہیں۔