موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سکم: الرٹ کے بعد خالی کرایا جا رہا گلیشیر جھیل کا قریبی علاقہ، تباہی کا خطرہ

گوہاٹی: سکم میں جنوبی لوناک جھیل پر بادل پھٹنے سے ہونے والی زبردست تباہی کے بعد منگن ضلع میں لاچین کے قریب ساکو چو جھیل سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ لہذا جھیل کے ساتھ والے علاقے کو خالی کرایا جا رہا ہے اور یہاں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دراصل جھیل ٹوٹنے کے دہانے پر ہے جس کے بعد حکام کو کناروں پر رہنے والے لوگوں کے لیے الرٹ جاری کرنا پڑا۔ ساکو چو برفانی جھیل تھانگو گاؤں کے اوپر ہے۔ یہ 1.3 کلومیٹر لمبی ہے، گاؤں یہاں سے صرف 12 کلومیٹر دور ہے۔ جھیل میں بڑھتے ہوئے پانی کو دیکھتے ہوئے حکام نے گنگٹوک ضلع کے سنگتم، منگن ضلع میں ڈکچو اور پاکیونگ ضلع میں رنگپو آئی بی ایم کے علاقے کو خالی کرا لیا ہے۔

گنگٹوک کے ضلع مجسٹریٹ تھوشارے نکھارے نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا نے ساکو چو کے اوپر گلیشیر کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دکھایا ہے۔ افسر نے کہا کہ درجہ حرارت مستحکم ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ صبح دوبارہ علاقے کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ نکھارے نے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر لوگوں کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیل میں گاد جمع ہو گئی ہے۔ پانی کی اچانک آمد سے جھیل پھٹ گئی تو لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وہیں، مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد سکم میں پن بجلی منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ بجلی کی وزارت نے کہا کہ سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی این ایچ پی سی پن بجلی کے منصوبوں کو جلد از جلد شروع کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ منگل کو بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب میں اب تک 19 افراد جان بحق ہو چکے ہیں، جن میں فوج کے 6 اہلکار بھی شامل ہیں۔ 16 فوجیوں سمیت 100 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔