تلنگانہ اسمبلی انتخاب سے پہلے ریاست میں برسراقتدار کے. چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) کی بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) کو ایک زوردار جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے دو سینئر لیڈران کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالاجی سنگھ 100 سے زائد موجودہ اور سابق منتخب نمائندوں کے ساتھ آج کانگریس میں شامل ہو گئے۔ دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنی رہائش پر دونوں لیڈروں کو ان کے تقریباً 100 حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل کرایا۔
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی موجودگی میں بی آر ایس لیڈران کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالا جی سنگھ کلواکرتھی اسمبلی حلقہ کے 100 موجودہ و سابقہ منتخب نمائندوں کے ساتھ کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔‘‘ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سبھی بی آر ایس لیڈران کا کانگریس میں استقبال کیا۔
اس بارے میں تلنگانہ کانگریس صدر اے. ریونت ریڈی کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ایم ایل سی کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالاجی سنگھ سمیت کئی سینئر لیڈران کانگریس صدر کھڑگے، پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوئے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخاب جیتنے جا رہی ہے۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 17 دنوں تک تلنگانہ میں تھی اور اس کے بعد سی ڈبلیو سی کی میٹنگ بھی تلنگانہ میں ہوئی جس نے کانگریس کو ریاست میں مضبوط کیا ہے۔
ریونت ریڈی کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اور یو پی اے حکومت نے لوگوں کے فلاح کے لیے الگ تلنگانہ ریاست بنائی۔ گزشتہ 10 سالوں میں بی آر ایس حکومت کے تحت کوئی کام نہیں کیا گیا ہے۔ ہم حکومت بنانے جا رہے ہیں اور ہم نے ریاست میں چھ گارنٹی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ الگ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتے ہی ان کے خواب پورے ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بی آر ایس کے کئی سینئر لیڈران کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ کانگریس ریاست میں زور و شور سے انتخابی تشہیر میں مصروف ہے اور برسراقتدار ہونے کی امید کر رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس حکومت تشکیل پانے پر پارٹی نے چھ گارنٹی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

