موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہائی کورٹ کو ضمانت کے اپنے حکم پر نظرثانی کی اجازت نہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو ضمانت دینے کے اپنے حکم پر اس وقت تک نظرثانی کرنے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ ضمانت منسوخ کرنے کے لیے درست بنیادیں دستیاب نہ ہوں۔

جسٹس ابھے ایس اوکا اور پنکج متھل کی بنچ نے بدھ کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی طرف سے منظور کردہ ایک حکم کو مسترد کر دیا، جس میں ملزم کو پہلے دی گئی ضمانت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت کو منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔بنچ نے حکم

سپریم کورٹ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ’’ہائی کورٹ کے 31 مارچ 2023 کے اس فیصلے کو منسوخ کیا جاتا ہے اور 22 فروری 2023 کو اپیل کنندہ کو ضمانت دینے والا بنچ سابقہ ​​حکم بحال کیا جاتا ہ۔‘‘

اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے ضمانت منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ملزم کی درخواست ضمانت اس بنیاد پر قبول کی تھی کہ برآمد ہونے والے گانجے کی کل مقدار 20 کلو 50 گرام تھی، جبکہ اصل مقدار 101 کلو گرام تھی۔