موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’رام سیتو‘ کے اوپر نہیں بنے گی دیوار، سپریم کورٹ میں داخل عرضی خارج

رام سیتو کے اوپر دونوں طرف دیوار تعمیر کرانے اور رام سیتو کو قومی وراثت قرار دینے کا مطالبہ کرنے والی عرضی آج سپریم کورٹ سے خارج ہو گئی۔ یہ مفاد عامہ عرضی ہندو پرسنل لاء بورڈ نامی ایک ادارہ کے سربراہ اشوک پانڈے نے داخل کی تھی۔ عرضی دہندہ نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’دھنش کوڈی‘ کے پاس سمندر میں رام سیتو کے اوپر 100 میٹر تک دیوار بنانے کی ہدایت دی جائے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر ممکن ہو تو دیوار کی تعمیر ایک کلومیٹر تک ہو۔

اس عرضی پر جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے سماعت کی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے سوال قائم کیا کہ آخر دونوں طرف دیوار کیسے بنائی جا سکتی ہے؟ اس پر عرضی دہندہ نے کہا کہ کم از کم ایک طرف ہی بنوا دی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ ایک ایڈمنسٹریٹو فیصلہ ہے، اس لیے عدالت دیوار تعمیر کرنے کی ہدایت کیسے دے سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے اس مفاد عامہ عرضی کو ایک دیگر عرضی کے ساتھ ٹیگ کرنے سے بھی انکار کر دیا جس میں رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ عرضی میں رام سیتو کو ہندو مذہب کے لیے انتہائی اہم بتایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ پل کو عام طور پر شری رام سیتو کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس سیتو کی زیارت سے ہی نجات کی گارنٹی مل جاتی ہے۔ عرضی دہندہ نے یہ بھی کہا تھا کہ موجودہ ہندوستانی حکومت رام راج لانے کے ایجنڈے پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور وہ تب تک ممکن نہیں جب تک کہ کوئی دیوار کھڑی کر کے رام سیتو کی زیارت کا انتظام نہ کیا جائے۔