موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لال بہادر شاستری پوری دنیا میں ایمانداری اور سادگی کی مثال ہیں

بہت سے عظیم شخصیات  کی طرح، لال بہادر شاستری نے ملک کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ آزاد ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم بھی بنے اور ہندوستانی سیاست میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔ 02 اکتوبر لال بہادر شاستری جی کا یوم پیدائش ہے۔

لال بہادر شاستری اپنی سادہ زندگی، سادہ طبیعت، ایمانداری اور اپنے عزم کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ملک کو جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دیا۔ لال بہادر شاستری نہ صرف آزادی پسند تھے بلکہ ایک ہندوستانی سیاست دان بھی تھے۔ وہ 02 اکتوبر 1904 کو مغل سرائے، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں ان کے والد کا سایہ ان کا ساتھ چھوڑ گیا اور انہوں نے اپنے ماموں کے گھر میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 16 سال کی عمر میں، انہوں نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے اپنی پڑھائی چھوڑ دی اور جب وہ 17 سال کے تھے، انہیں تحریک آزادی کے دوران گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی موت کے بعد لال بہادر شاستری ملک کے دوسرے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے 09 جون 1964 کو وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔ وہ صرف ڈیڑھ سال تک وزیر اعظم رہ سکے اور اس کے بعد 11 جنوری 1966 کو پراسرار طور پر انتقال کر گئے۔ کہا جا تا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جبکہ یہ بھی کہا جا  تارہا ہے کہ ان کی موت زہر دینے سے ہوئی۔

بھارت نے 1965 میں پاکستان کے ساتھ جنگ ​​کی۔ اس جنگ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی مذاکرات کے بعد ایک دن اور جگہ کا انتخاب کیا گیا، یہ جگہ تاشقند تھی۔ سوویت یونین کے اس وقت کے وزیراعظم الیکسی کوزیگین نے اس معاہدے کی پیشکش کی اور اس معاہدے کی تاریخ 10 جنوری 1966 مقرر کی گئی۔ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد لال بہادر شاستری جی 11 جنوری 1966 کی رات پراسرار حالات میں انتقال کر گئے۔

لال بہادر شاستری ملک کے وزیر اعظم بنے اور اس سے پہلے بھی وہ وزیر ریلوے اور وزیر داخلہ جیسے عہدوں پر فائز رہے لیکن ان کی زندگی ایک عام آدمی جیسی رہی۔ وہ وزیراعظم کی رہائش گاہ میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ وہ صرف دفتر سے ملنے والے الاؤنسز اور تنخواہ سے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ ایک بار جب شاستری جی کے بیٹے نے وزیر اعظم کے دفتر کی کار استعمال کی تو شاستری جی نے گاڑی کے ذاتی استعمال کی پوری رقم سرکاری اکاؤنٹ میں بھی ادا کر دی۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ان کے پاس نہ تو اپنا گھر تھا اور نہ ہی کوئی جائیداد۔

لال بہادر شاستری’جئے جوان جئے کسان‘ کے نعرے کا اعلان کرنے والے تھے۔ جب وہ وزیراعظم بنے تو ملک میں خوراک کا بحران تھا اور مون سون بھی کمزور تھا۔ ایسے میں ملک میں قحط کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اگست 1965 میں دسہرہ کے دن لال بہادر شاستری نے دہلی کے رام لیلا میدان میں پہلی بار جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دیا۔ اس نعرے کو ہندوستان کا قومی نعرہ بھی کہا جاتا ہے جو کسانوں اور فوجیوں کی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے لوگوں کو ہفتے میں ایک دن روزہ رکھنے کو بھی کہا اور خود بھی ایسا کیا۔