موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سنجے گاندھی اسپتال کو بند کرنا مناسب نہیں:بی جے پی لیڈر

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے پیلی بھیت سے ایم پی ورون گاندھی کے بعد سابق مرکزی وزیر و پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سنجے سنگھ نے کہا کہ سنجے گاندھی اسپتال میں خاتون کی موت کے سلسلے میں ہوئے تنازع کے بعد خاطیوں پر کاروائی ہولیکن اسپتال کو بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے اتوار کو ایک پروگرام میں شامل ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ حکومت کو خاتون کے اہل خانہ کو مالی مدد کرنی چاہئے۔سابق مرکزی وزیر و بی جے پی لیڈر ڈاکٹر سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کو خاتون کے کنبے کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سنجے گاندھی اسپتال میں آس پاس کے اضلاع سمیت بیمار مریض اپنا علاج کرانے آتے ہیں۔ اسپتال کا بند   کرنا امیٹھی کے عوام کے لئے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے آگے کہا کہ اسپتال کو بند کئے جانے سے پورے علاقے کو دکھ ہے۔ اسے ناکارہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سب کو اس بات سے تکلیف ہے۔ وہیں انہوں نے کہا کہ خاتون کی موت کی جانچ ہونی چاہئے۔ اس کے علاج میں گڑبڑی تھی۔ یہ جانچ کا موضوع ہے۔ مجھے لگتا ہے اس کی جانچ کر کےمناسب کاروائی کرنا چاہئے۔

انہوں نے متاثرہ کنبے کے بارے میں کہا کہ اس کے کنبے کی روزی۔روٹی کے لئے حکومت کو انتظام کرنا چاہئے۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسپتال 1982 میں بنا اور 1996 سے لوگوں کا علاج اسپتال میں ہورہا ہے۔ وارانسی لکھنؤ الہ آباد کے علاوہ تمام اضلاع کے لوگ علاج کے لئے آتے ہیں۔ اسپتال میں تمام ساری ایمرجنسی بلڈ بینک و دیگر سہولیات ہیں۔ حکومت کو اسپتالوں میں تمام سہولیات بڑھانا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ سنجے گاندھی اسپتال منشی گنج پر ہوئی کاروائی کے سلسلے میں اس سے قبل سابق بی جے پی ایم پی ورون گاندھی نے بھی یوپی کے ڈپٹی وزیر اعلی برجیش پاٹھک کو خط لکھ کر اسپتال کی خدمات بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اسپتال کو بند کرائے جانے کے فیصلے کو نامناسب قرار دیا تھا۔