موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

میوات: جمعیۃ کی طرف سے زیر تعمیر ظفرالدین نگر کالونی میں مکان کا سنگ بنیاد رکھا گیا

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے ایک اعلی سطحی وفد نے ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں میوات کے فساد زدہ علاقے میں ریلیف اور باز ابادکاری کے کاموں کا جائزہ لیا۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ اطلاع دیی گئی۔ اس موقع پر وفد نے ہوڈل اور پلول میں فساد متاثرہ مساجد میں جاری تعمیری کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دریں اثنا، جمعیۃ کی طرف سے میوات میں زیر تعمیر مولانا ظفر الدین نگر کالونی میں ایک نئے مکان کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ اس مکان کی بنیاد احمد آباد کے معروف عالم دین اور وفد کے مہمان خصوصی مولانا عرفان گلی والا کے ہاتھوں رکھی گئی۔ مولانا عرفان نے علاقہ میں جاری ریلیف، بازآباد کاری اور قانونی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا ’’مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ جمعیۃ علماء ہند نے قانونی میدان میں بڑا نمایاں کارنامہ انجام دیا اور صرف چند ہفتوں میں 130 سے زائد ضمانت کرا کے میوات کے مظلوم اور بے قصور لوگوں کے ساتھ بڑا کرم فرمائی کا کام کیا ہے۔‘‘

انہوں نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جاری اس جدوجہد کو قابل قدر بتایا۔ جمعیۃ علما ہند کے وفد نے دوسرے مقامات پر جاری باز آباد کاری اور غریب تاجروں کے لیے کھوکھے بنائے جانے کے کاموں کا بھی جائزہ لیا۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ جمعیۃ میوات میں تین محاذوں پر کام کر رہی ہے، ان میں سے ایک جن کے مکانات تباہ کر دیے گئے ان کے لیے مکانات کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے، اسی طرح جو لوگ مقدمات میں گرفتار ہوئے ہیں ان کے لیے قانونی پیروی کی جا رہی ہے، اسی طرح وہ افراد جن کے دکان جلا دیے گئے ان کے لیے کھوکھے اور ریہڑی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان تاجروں کے لیے مالی امداد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تجارت شروع کر سکیں۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے جمعیۃ علماء میوات کے کارکنان اور ذمہ داروں کی شب و روز خدمات کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مقامی کارکنان چاہے لیگل ٹیم ہو یا ریلیف ٹیم ہو، وہ تن من سے محنت کر رہی ہے۔ آج جمیعت علماء کے وفد میں مرکزی سینیر ارگنائزر مولانا غیور احمد قاسمی اور جمعیۃ علماء میوات کے ذمہ داران بھی شامل تھے۔ جو ضرورت مند تاجر ہیں ان کے لیے لگاتار کھوکے اور ریڈی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مکان تباہ کر دیے گئے ہیں جن کی تعمیر کی کا کام بھی جاری ہے۔ جمعیۃ نے اب تک 28 کھوکھے تقسیم کیے ہیں اور مزید تیار کیے جا رہے ہیں۔