موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مسلمانوں سے ابھی نہیں، 10 سال بعد ووٹ کا مطالبہ کروں گا! وزیر اعلیٰ آسام

گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اتوار کو کہا کہ انہیں کم از کم اگلے 10 سالوں تک ریاست کے چار چاپوری علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آسام میں چار چاپوری دریائے برہم پترا اور اس کی معاون ندیوں کا ایک علاقہ ہے جو سیلابی میدانی تلچھٹ پر مشتمل ہے۔

گوہاٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم سرما نے صحافیوں س کہا ’’بی جے پی حکومت سماج کے تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے، بشمول چار چاپوری علاقوں کے باشندگان تاہم، میں انتخابات کے دوران ان سے ووٹوں کا مطالبہ نہیں کروں گا۔‘‘

بسوا سرمام کے مطابق وہ ان سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل صرف اس صورت میں کریں گے جب وہ بچوں کی شادیوں کو روکیں، خود کو بنیاد پرست موقف سے دور رکھیں، اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں وغیرہ! انہوں نے کہا ’’بی جے پی کو ووٹ دینے کے کچھ معیار ہیں۔ ہم ان سے ووٹ مانگتے ہیں جن کے دو یا تین سے زیادہ بچے نہیں ہیں۔ چار چاپوری علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی ذہنیت بدل رہی ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔‘‘

بسوا سرمام نے کہا، ’’اس کے لیے کم از کم 10 سال کا وقت درکار ہے۔ اس کے بعد میں ذاتی طور پر چار چاپوری علاقے میں جاؤں گا اور ان سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کروں گا۔‘‘

دریں اثنا، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آسام کے لوگ اپنی مرضی سے نریندر مودی کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’ریاست کے ووٹر اگلے سال بڑی تعداد میں نریندر مودی کو ووٹ دیں گے۔ آیا وہ 2026 میں مجھے ووٹ دیں گے یا نہیں، یہ ایک دوسرا پہلو ہے۔‘‘