کانگریس نے آج مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ نیو ایجوکیشن پالیسی (نئی تعلیمی پالیسی) کو ملک اور آئین کے لیے خطرناک بتاتے ہوئے اس کی خامیوں کو میڈیا کے سامنے رکھا۔ کانگریس کے شیڈولڈ کاسٹ سیل کے قومی صدر راجیش للوتیا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی جو نیو ایجوکیشن پالیسی لے کر آئی ہے، وہ بے حد خطرناک ہے۔ پہلے بچوں کو نصاب میں ملک کی تحریک آزادی کے بارے میں پڑھنے کو ملتا تھا، مجاہدین آزادی کے بارے میں جانکاری دی جاتی تھی، لیکن اب اس تاریخ کو ختم کرنے کی سازش بی جے پی کے ذریعہ ہو رہی ہے۔ دراصل نیو ایجوکیشن پالیسی کے ذریعہ نصاب کی بھگواکاری ہو رہی ہے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیش للوتیا نے کہا کہ ’’پہلے سبھی ریاست کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بچوں کے لیے نصاب تیار کرے۔ یہ حق ریاست کو ہندوستانی آئین نے دیا تھا۔ لیکن اب تعلیم کو سنٹرلائز کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یعنی جنوبی ہند کے بچے کو بھی وہی کچھ پڑھنے کہا جائے گا جو شمالی ہند کے بچے پڑھیں گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر ریاست کی اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی اپنی ریاستوں کی تہذیب کے ساتھ پرورش پاتے ہیں اور ریاستوں کا حق ہے کہ وہ انھیں اسی تہذیب و تمدن اور مقامی تاریخ کی تعلیم دیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ جس طرح سے بی جے پی تعلیم کی بھگواکاری کی کوشش کر رہی ہے، وہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہندوستانی آئین کے لیے بھی خطرناک ہے۔
پریس کانفرنس میں راجیش للوتیا نے تعلیم کے تعلق سے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا نظریہ بھی پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر جی نے کہا تھا کہ تعلیم ایک شیرنی کا دودھ ہے، اور جو کوئی بھی اسے پیے گا وہ شیر کی طرح دہاڑے گا۔ انھوں نے تعلیم یافتہ بننے، منظم بننے اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دی تھی۔ بابا امبیڈکر نے سماج کے ہر طبقہ سے کہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں کیونکہ جس کنبہ میں تعلیم کی روشنی ہوگی وہاں کبھی تاریکی جگہ نہیں پائے گی۔‘‘

