موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مودی حکومت نے ہندوستان کے نوجوانوں کی امیدوں اور خوابوں کو کچل دیا، خودکشیوں میں اضافہ: جے رام رمیش

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات نے بے روزگاری کے مسئلہ پر وزیر اعظم مودی پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کے نوجوانوں کی امیدوں اور خوابوں کو کچل دیا ہے اور اس کی وجہ سے خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت خودکشی کی معلومات کو چھپانے کے لیے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے ڈیٹا میں ہیرا پھیری کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن معاشی پالیسیوں نے درحقیقت تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کم کر دئے ہیں۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ مودی حکومت کا اگلا قدم نوجوانوں کی خودکشی کی شرح کو چھپانے کے لیے 2022 کے لیے این سی آر بی کے ڈیٹا میں ہیرا پھیری کرنا ہے۔ آنند وہار ٹرمینل پر راہل گاندھی کی حالیہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کی ڈگریوں کے حامل افراد سمیت تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد رسمی ملازمت حاصل کرنے سے قاصر ہے اور غیر رسمی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ چھپی ہوئی کم روزگاری ہندوستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے 2021-22 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رسمی شعبے میں روزگار 2019-20 کے مقابلے میں 5.3 فیصد کم تھا۔ 20-2019 اور 2021-22 کے درمیان رسمی آجروں کی تعداد میں بھی 10.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ 2021-22 میں 25 سال سے کم عمر کے 42 فیصد گریجویٹس بے روزگار تھے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای) کے اعداد و شمار کے مطابق، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ملازمتوں میں 2016-17 اور مارچ 2023 کے درمیان 31 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔