موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

منی پور تشدد: ہجوم نے وزیر اعلیٰ کے آبائی گھر پر بولا دھاوا، سکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنایا

نئی دہلی/امپھال: ایک ہجوم نے جمعرات کی رات ریاستی راجدھانی امپھال کے مضافات میں منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ کے خالی آبائی مکان پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ وادی میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود پیش آیا۔ سکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ کر کے بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ خیال رہے کہ این بیرین سنگھ امپھال کے وسط میں ایک الگ محفوظ سرکاری رہائش گاہ میں رہتے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا، ’’امپھال کے ہنگانگ علاقے میں وزیر اعلیٰ کے آبائی مکان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیکورٹی فورسز نے ہجوم کو گھر سے تقریباً 100-150 میٹر دور روک دیا۔‘‘ پولیس افسر نے کہا، ’’اس رہائش گاہ میں کوئی نہیں رہتا، تاہم یہاں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’لوگوں کے دو گروپ مختلف سمتوں سے آئے اور وزیراعلیٰ کے آبائی مکان کے قریب پہنچ گئے، تاہم انہیں روک دیا گیا۔‘‘

ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور ریاستی پولیس فورسز نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کئی راؤنڈ فائر کیے۔ حکام نے مرئیت کو کم کرنے اور مظاہرین کے لیے آگے بڑھنا مشکل بنانے کے لیے پورے علاقے میں بجلی کاٹ دی۔ انہوں نے بیرین سنگھ کے گھر کے قریب مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

مظاہرین نے قریبی سڑک پر ٹائر بھی نذر آتش کئے۔ ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ پر دیکھا گیا، حالانکہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ منی پور میں طلبا نے دو نوجوانوں کی ہلاکت پر منگل اور بدھ کو پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ ہجوم نے جمعرات کی صبح امپھال مغربی ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور دو گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔

سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کے بعد کل دو اضلاع امپھال ایسٹ اور ویسٹ میں دوبارہ کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ان مظاہرین میں زیادہ تر طلباء تھے۔