تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ کو آج اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ان کی پارٹی بی آر ایس کے 3 سینئر لیڈران کانگریس میں شامل ہو گئے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخاب سے قبل بی آر ایس کے لیے یہ بری خبر ہے، کیونکہ جو لیڈران کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ان میں سے ایک کو آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے امیدوار بنایا گیا تھا۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر بی آر ایس لیڈران کے پارٹی میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کانگریس کے ایکس ہینڈل پر بی آر ایس لیڈران کے کانگریس میں شامل ہونے کی کچھ تصویریں شیئر کی گئی ہیں اور ساتھ میں لکھا گیا ہے کہ ’’کانگریس کے نظریہ اور مفاد عامہ کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر مینام پلی ہنومنت راؤ جی، ویمولا ویریشم جی اور مینام پلی روہت جی نے کانگریس صدر کھڑگے جی کی موجودگی میں کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔ کانگریس کنبہ میں آپ کا استقبال ہے۔ آئیے ملک کے مفاد کے ہدف کی طرف مل کر قدم بڑھائیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ مینام پلی ہنومنت راؤ بی آر ایس پارٹی سے رکن اسمبلی ہیں اور آئندہ اسمبلی انتخاب میں انھیں پارٹی کی طرف سے ملکاج گری انتخابی حلقہ سے امیدوار بھی بنایا گیا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھامنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ساتھ بیٹے مینام پلی روہت نے بھی کانگریس کی رکنیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ جہاں تک ویمولا ویریشم کا معاملہ ہے، وہ بی آر ایس سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور وہ تلنگانہ میں ایک مضبوط لیڈر تصور کیے جاتے ہیں۔

