موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راجستھان انتخاب میں بھی مرکزی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو امیدوار بنائے گی بی جے پی!

راجستھان میں رواں سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کو لے کر بی جے پی میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بی جے پی مدھیہ پردیش کی طرح راجستھان میں بھی کئی مرکزی وزراء اور پارٹی اراکین پارلیمنٹ کو میدان میں اتارنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج جئے پور میں راجستھان بی جے پی کے کور گروپ لیڈران کے ساتھ غور و خوض کر اس بارے میں آخری فیصلہ پر پہنچیں گے۔

آخری فیصلہ کرنے سے پہلے نڈا اور شاہ راجستھان میں پارٹی امور کی ذمہ داری سنبھالنے والے لیڈروں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ جئے پور سے صلاح و مشورہ کر لوٹنے کے بعد راجستھان کے امیدواروں کے ناموں پر فیصلہ کرنے کے لیے پارٹی جلد ہی اپنی مرکزی انتخابی کمیٹی کی میٹنگ مدعو کرے گی اور میٹنگ میں لیے گئے حتمی فیصلے کی بنیاد پر پارٹی جلد ہی راجستھان کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر سکتی ہے۔

بی جے پی ذرائع کی مانیں تو بی جے پی مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر اور موجودہ لوک سبھا رکن راج وردھن سنگھ راٹھوڑ، راجیہ سبھا رکن کروڑی لال مینا سمیت تقریباً نصف درجن اراکین پارلیمنٹ کو امیدوار بنا کر راجستھان اسمبلی انتخاب میں اتارنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس سلسلے میں امت شاہ اور جے پی نڈا کی آج جئے پور میں بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ راجستھان کو لے کر بی جے پی اعلیٰ کمان سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کے ذریعہ لگاتار اپنا کردار واضح کرنے کے مطالبہ کے باوجود پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ پارٹی ریاست میں وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے کے ساتھ اجتماعی قیادت میں انتخاب لڑے گی۔ اس لیے پارٹی نے مدھیہ پردیش کے طرز پر اپنے سرکردہ لیڈروں (مرکزی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ) کو اسمبلی انتخاب میں امیدوار بنانے کا من بنایا ہے۔